بٹ خیلہ: وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا دورِ اقتدار کرپشن کا راج تھا، صوبے میں 13 سالہ حکمرانی کا حساب لیا جائے گا، اب خیبر پختونخوا کے عوام کو امن، ترقی اور ان کے وسائل ملیں گے۔
تحصیل بٹ خیلہ، ضلع مالاکنڈ میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کی خوشی میں مسلم لیگ (ن) کے زیر اہتمام یومِ نجات جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امیر مقام نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتی رہی، جس کے باعث صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی حکومت دہشت گردوں کی ترجمانی نہ کرتی تو گورنر راج اور ایمرجنسی کی نوبت نہ آتی۔ فوج، پولیس اور سکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہے تھے، جبکہ صوبائی حکومت کا رویہ قابلِ قبول نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ 13 سالہ دورِ اقتدار میں صرف پی ٹی آئی رہنماؤں کی دولت بڑھی، جبکہ خیبر پختونخوا کے عوام غربت اور مسائل کا شکار رہے۔ جو حکومت ایک بی آر ٹی اور ایک ہسپتال درست انداز میں تعمیر اور چلا نہیں سکی، وہ پورا صوبہ کیسے چلا سکتی تھی؟ عوام اب کھوکھلے نعروں اور سوشل میڈیا پروپیگنڈے کے بجائے امن، ترقی اور عملی اقدامات چاہتے ہیں۔
امیر مقام نے افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج ہر مشکل وقت میں قوم کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر ملک کا وقار بلند کیا۔ قوم اپنی افواج کے ساتھ متحد ہے اور ملکی سلامتی و استحکام کے لیے ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مالاکنڈ کے عوام نے امن کے قیام کے لیے بڑی قربانیاں دیں، نقل مکانی اور مشکلات برداشت کیں اور دوبارہ علاقے میں پاکستان کا پرچم لہرایا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ علاقے میں ہسپتالوں، سڑکوں اور گیس سمیت بنیادی مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ٹیکسوں کے نفاذ کا معاملہ بھی ہر متعلقہ فورم پر اٹھایا گیا ہے۔
امیر مقام کا کہنا تھا کہ وہ خود کو خیبر پختونخوا کے عوام کا ترجمان اور ان کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں اور ہمیشہ عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔ جلسے میں مسلم لیگ (ن) کے صوبائی و ضلعی رہنماؤں، کارکنوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔








