اسلام آباد(نیوزڈیسک)اوورسیز پاکستانیوں نے چیف الیکشن کمشنر اورالیکشن کمیشن کے دیگر ارکان کو ہتک عزت کا قانونی نوٹس جاری کردیا۔قانونی نوٹس سپریم کورٹ کے معروف ایڈووکیٹ محمد اظہر صدیق کے توسط سے جاری کیا گیا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر قانونی نوٹس کو شیئر کرتے ہوئے ایڈووکیٹ محمد اظہر صدیق نے لکھا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران الیکشن کمیشن کو ہتک عزت کا قانونی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے لکھا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے میری وساطت سے قانونی نوٹس ارسال کیا ہے۔
قانونی نوٹس کے متن میں لکھا گیا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے رائٹس الیکشن کمیشن کی جانب سے ختم کرنا قانون کی خلاف وزری ہے۔
ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلے کا حوالے دیتے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں نے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو غیر پاکستانی ڈیکلیئر کیا ہے۔
الیکشن کمشنر اور دیگر ممبران کے خلاف قانونی نوٹس میں نقطہ اٹھا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس اقدام سے دوہری شہریت رکھنے والے افراد کی توہین ہوئی ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن دوہری شہریت رکھنے والے افراد سے معافی مانگے۔
ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی جانب سے ارسال کیے گئے قانونی نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ معافی نہ مانگے کی صورت میں عدالتوں میں ہتک عزت کے کیسز دائر کیے جائیں گئے۔
ہتک عزت کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ دو اگست 2022 کو ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آئینی طور پر متعصب، قانونی طور پر توہین آمیز ، مجرمانہ طور پر غلط اور بدنیتی پر مبنی ہے ، جو اوورسیز پاکستانیوں کے لیے توہین آمیز ہے ، جس کی کسی بھی قانون میں اجازت نہیں ہے۔
مزید برآں، بیرون ملک مقیم پاکستانی غیر منافع بخش تنظیموں کے ذریعے جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت سیاسی عطیات جمع کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور عمران خان کو اس طرح کے عطیات بھیجے جا رہے ہیں کیونکہ وہ سمندر پار پاکستانیوں کے قابل اعتماد رہنما ہیں۔
اوورسیز پاکستانیوں نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ہتک عزت کا نوٹس جاری کردیا








