بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وزیراعظم نے ایک بار پھر میثاق معیشت کی پیشکش کردی

اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف کا قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تاریخ گواہے کہ لاکھوں مسلمانوں کے لہو سے لکھی گئی ہے وہ داستان جس کا عنوان ہے پاکستان، وطن عزیز کے 75 ویں یوم آزادی پر میں تحریک آزادی کے انگنت جانثاروں کو خراج عقیدت، اور پوری دنیا میں آباد ہر پاکستانی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہ ہم ہر سال بڑی دھوم دھام سے یوم آزادی،یوم پاکستان، یوم قائد اور یوم علامہ اقبال منایا ہے، حقیقت یہ ہے کہ پچھلے 75 برسوں میں ہم نے ان دونوں کو محض منایا ہے مگر ان کے اصل مقاصد کو اپنایا نہیں ہے، پاکستان کو ایسا نہیں بنایا جسے دیکھ کر ہمارا دل خود یہ گواہی دے کہ قائد اور لاکھوں شہدا کی روحیں مطمئن اور آسودہ ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے یوم آزادی کے موقع پر میرا دل مسرور بھی ہے اور بے چین بھی، آج ہمیں کھلے دل سے اس سچائی کا اعتراف کرنا ہوگا کہ ہم نئی نسل کو وہ کچھ نہیں دے سکے جس کے وہ اصل میں حقدار ہیں، جسے اللہ نے ہر نعمت سے نوازا ہے اور جس کے پاس رہنمائی کے لیے قائداعظم کا عمل اور علامہ اقبال کی فکر موجود ہے، پھر وہ قوم کیوں منزل کی تلاش میں بھٹک رہی ہے، ہم ان بحرانوں سے کیوں دوچار ہوئے، جن میں سب سے بڑھ کر معاشی بحران ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس جذباتی بحران کا ذکر کرنا چاہوں جس کا آج ہمیں سامنا ہے، یہ بحران خودی، خوداری، خود اعتمادی پر ہمارے یقین کا متزلزل ہونا ہے، جس کے اثرات آج ہمارے قومی وجود کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں، حالانکہ ہمارا قومی کردار، جذبے، ہمت ، محنت اور کر دکھانے سے ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت خود پاکستان کا قیام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہی وہ جذبہ تھا جسے علامہ اقبال نے سوئی ہوئی ملت میں جگایا، جس کی مدد سے قائداعظم کی عظیم و شان قیادت میں ایک خواب کو تعبیر میں بدل دیا اور پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ تعمیر پاکستان کے اس مشن کو ہماری قومی سیاسی قیادت نے جمہوری اور آئینی جدوجہد کے ذریعے آگے بڑھایا، انہوں نے حقائق سے نظریں نہیں چرائیں، ہوش مندی سے سچائی کا سامنا کیا، اور شدید مالی، انتظامی اور ہر طرح کے مسائل کا صبر، استقامت اور دانش مندی سے مقابلہ کیا، قوم کو متفقہ آئین دے کر ایک قومی ایجنڈے پر اکٹھا کیا، ادارے بنائے، معیشت، زراعت، صنعت کو ترقی دی، قوم کو روزگار دیا، اور پاکستان کو دنیا میں قابل عزت بنایا، یہی وہ قوم ہے جس نے وسائل نہ ہونے کے باوجود وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں جوہری پروگرام شروع کیا اور سابق وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں دباؤ کے باوجود اسے مکمل کرکے قومی دفاع کو ہمیشہ کے لیے ناقابل تسخیر بنا دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ قوم نے ہولناک زلزلوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا ہے، اسی قوم کے بیٹوں اور بیٹیوں نے کھیلوں کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کا پرچم سر بلند کیا، حالیہ دنوں میں کامن ویلتھ گیمز میں ارشد ندیم اور نوح بٹ سمیت دیگر نے کامیابیاں حاصل کرکے پاکستان کو دنیا میں سربلند کیا، اسی قوم نے مل کر دہشت گردی کو شکست فاش دی، یہ ہمارے قومی عزم، ادارے اور اعتماد کی چند مثالیں ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج قوم کو مایوسی کے ایک بحران کا سامنا ہے، انتشار اور نفرت کے بیچ بوئے جا رہے ہیں، قوم کو تقسیم در تقسیم، اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ پچھلی حکومت کے پیدا کردہ معاشی بحران نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، آج مالی محتاجی جیسے ہماری قومی شناخت بن گئی ہے، جس کا ہمارے بزرگوں نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ‘آئی ایم ایف سے بھی شبانہ روز کاوشوں کے بعد معاہدہ ہوچکا ہے جس کا سہرا ہمارے وزیرخزانہ مفتاح اسمٰعیل اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے کہ جنہوں نے پوری کوشش کے بعد معاہدہ کرنے میں کامیابی حاصل کی’۔
قوم سے خطاب میں ویراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ‘آج سے چند ماہ پہلے جب ہم نے حکومت کی ذمہ داری سنبھالی تو ہمیں ورثے میں ایک تباہ شدہ معیشت ملی، پاکستان کے اندر مہنگائی اپنے عروج پر تھی اور دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی تھیں’۔