اسلام آباد(نیوزڈیسک) وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی اور ستارہ امتیاز ڈاکٹر محمد علی شاہ پر 14 اگست کی تقریب پرچم کشائی میں قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔ ملزم نے کنپٹی پر اسلحہ رکھ کر فائر کئے جس میں وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
تفصیلات کے مطابق قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی پر قاتلانہ حملہ سنٹرل لائبریری میں ہوا۔
قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق علی جنہوں نے وائس چانسلر پر قاتلانہ حملہ ناکام بنایا ، نے برطانوی نشریاتی ادادے کو بتایاکہ یونیورسٹی کے رجسٹرار راجا قیصر کے مطابق یہ واقعہ سینٹرل لائبریری میں پرچم کشائی کی تقریب کے بعد پیش آیا، جب ایک شخص نے وائس چانسلر پر پستول تان کر تین فائر کیے۔
ڈاکٹر اشتیاق علی کے مطابق ’ملزم نے وائس چانسلر کی کنپٹی پر جیسے ہی پستول رکھی تو میں اس وقت دو اور ساتھیوں کے ساتھ تقریباً ایک میٹر کے فاصلے پر آگے کھڑا تھا۔ میں نے فوراً چلا کر کہا یہ تم کیا کر رہے ہو، بس اس کی زبان سے جیسے ہی گولی کے الفاظ نکلے تو پھر یکدم بغیر سوچے میں اس پر لپکا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ سب دو تین سیکنڈ کے اندر کیا اور اس میں کامیابی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وائس چانسلر بالکل گھبرائے نہیں اور انتہائی اطمینان کے ساتھ کھڑے رہے، جس سے ملزم اپنے ارادے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
ڈاکٹر اشتیاق کے مطابق جب انھوں نے ملزم کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا تو وہ کوشش کر رہا تھا کہ کسی طریقے سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر وائس چانسلر پر فائر کر دے۔
ان کے مطابق اس کوشش میں ملزم نے تین فائر کیے مگر خوش قسمتی سے وائس چانسلر سمیت وہاں پر موجود سب لوگ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ کے مطابق وہ آج اپنے ساتھی کی حاضر دماغی کی وجہ سے بچ گئے۔ ان کے مطابق ملزم 2016 سے یونیورسٹی میں کنٹریکٹ پر ملازمت کر رہا ہے مگر اس کا میرے ساتھ کبھی براہ راست واسطہ نہیں پڑا۔
یونیورسٹی کے رجسٹرار راجا قیصر جو کہ خود بھی اس تقریب میں موجود تھے نے بتایا کہ یہ ملزم یونیورسٹی کا ملازم نہیں بلکہ ایک ڈیپارٹمنٹ میں انٹرن تھا۔
یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر سہیل یوسف، جو اس واقعے کے وقت وائس چانسلر کے ساتھ تھے، نے بتایا کہ ’ریکارڈ پر ملزم کی کوئی ایسی درخواست نہیں ہے جس میں انھوں نے مستقل ملازمت کی بات کی ہو۔
ڈاکٹر سہیل یوسف کے مطابق ’وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ چار برس سے یہاں خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کے عرصے میں سب سے زیادہ ملازمین کو ترقیاں دی گئیں۔‘
ان کے مطابق ’کچھ مہینے میں پہلے انٹیلی جنس سے یہ رپورٹ آئی تھی کہ وائس چانسلر پر حملہ ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق ’اس رپورٹ کی روشنی میں سکیورٹی سے متعلق ہم نے کچھ ضروری اقدامات اٹھائے تھے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’وہ خطرہ کافی حد تک کم ہو گیا تھا، تاہم جو یوم آزادی کی صبح ہوا یہ بہت ہی غیر متوقع تھا۔‘
ڈاکٹر سہیل کے مطابق یہ واقعہ صبح دس بج کر آٹھ منٹ پر پیش آیا۔ ان کے مطابق سی سی ٹی وی کیمروں سے یہ پتا چلا ہے کہ ملزم دس منٹ تک وائس چانسلر کی گاڑی کی طرف ان کی آمد کا انتطار کرتا رہا۔
دریں اثنا وائس چانسلر پر قاتلانہ حملے میںملوث شخص نے ابتدائی بیان میں کہا کہ وہ دس سال سے کنٹریکٹ پر ملازمت کر رہا ہے، مستقل ملازمت نہ ملنے پر وی سی پر فائرنگ کردی۔ پولیس نے مزید تحقیقات شروع کردی ہے۔









