بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ضمیر مطمئن ،تمام سیاست دان محترم، نواز شریف ، مریم کو مجھ سے کیا مسئلہ ؟ انہی سےپوچھیں،ثاقب نثار 

اسلام آباد (نیوزڈیسک)سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ میرا ضمیر مطمئن ہے،کسی سے کوئی رنجش نہیں،تمام سیاست دانوں کا احترام کرتا ہوں، نواز شریف یا مریم نوازکو میرے کسی فیصلے سے اعتراض ہے تو اس کا جواب وہ خود دے سکتے ہیں ، اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تقرری کے لئے آئین میں درج طریقہ کار پر عمل کرنا ہو گا،مجھے نہیں معلوم کہ نواز شریف اور مریم نواز کو مجھ سے کیا مسئلہ ہے کااس سے متعلق میاں صاحب اور مریم سے پوچھا جائے ،فارن فنڈنگ کا معاملہ حنیف عباسی کیس سے جڑاہوا ہے ،چونکہ اس کی سماعت کرچکاہوں اس لئے تبصرہ نہیں کروں گا،کتاب لکھ رہاہوں جس میں بہت سے حقائق ہوں گے۔وہ اتوار کو دفاعی تجزیہ نگار اکرام سہگل کے آمانی باغ فارم ہائوس میں منعقدہ تقریب کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کر رہے تھے ۔ جسٹس (ر)ثاقب نثار نے کہا کہ جج کی زندگی آسان نہیں ہوتی ہمیں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوتا ہے اور ہم تمام فیصلے آئین و قانون کے مطابق کرتے ہیں ۔ میرا ضمیر مطمئن ہے ۔ ۔ ایک سوال پر ثاقب نثار نے کہا کہ سپریم کورٹ جیورس کورٹ ہے ہر آدمی سپریم کورٹ کے لئے کوالیفائی نہیں کرتا ۔ یہاں صرف وہ جج کامیاب ہے جس کے پاس عقل ، علم اور دانائی ہے ۔ سپریم کورٹ حتمی عدالت ہوتی ہے اس کا پنا زاویہ،طریقہ کار اور اہلیت کا معیار ہے صرف سنیارٹی ہی پیمانہ نہیں ہے امریکی جیورسٹ کا کہنا ہے کہ جج سے بھی غلطی ہو سکتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کا فیصلہ تسلیم کرنا ہوتا ہے کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف کہیں اپیل نہیں ہو سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق ججوں کی سنیارٹی کے معاملے پر عمل کرنا ہو گا اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے ۔ جسٹس عمر عطاء بندیال کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عمر عطاء بندیال نیک ، پرہیز گار ، بے خوف ، نڈر صاحب علم آدمی ہیں ۔ چیف جسٹس گھبرانے والے نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے کام ججز کبھی ایک فیصلے پر متفق نہیں ہوتے اپنی اپنی آراء مختلف ہوتی ہیں، جو اس نظام کا حصہ ہے تاہم ججز میں ڈویژن نمایاں ہو جائے تو عوام میں تشویش کا باعث بنتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں جب سے ریٹائرہوا ہوں میڈیا کے لوگ مجھے پہلے ہی انٹرویو کے لئے بہت اصرار کر رہے ہیں لیکن میں سب سے معذرت کرتا ہوں کیونکہ میں ایک کتاب لکھ رہا ہوں اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک کتاب منظر عام پر نہیں آجاتی میں کوئی میڈیا انٹرویو نہیں دوں گا،میں جس منصب سے ریٹائرہوا ہوں اس منصب کا تقاضا ہے کہ میں احتیاط کا دامن نہ چھوڑوں۔ انہوں نے امید ظاہرکی کہ جلد ہی ان کی کتاب منظر عام پر آجائے گی جس میں بہت سے حقائق ہونگے ۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے سوال پر ثاقب نثار نے کہا کہ میری کسی سے کوئی ذاتی رنجش نہیں ہے، اگر میرے کسی فیصلے سے انہیں اعتراض ہے تو اس کا جواب میاں نواز شریف یا مریم نواز خود دے سکتے ہیں میں تمام سیاستدانوں کا احترام کرتا ہوں ۔ اس سوال پر کہ میاں نواز شریف تو لندن میں رہتے ہیں ان سے کیسے پوچھا جائے تو ثاقب نثار نے مسکراتے ہوئے کہا کہ کبھی نہ کبھی تو وہ وطن واپس آئیں گے۔جب ان سے پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس سے متعلق سوال کیا گیا توانہوں نے کہاکہ یہ سارا معاملہ حنیف عباسی کیس سے جڑاہوا ہے چونکہ میں نے اس کی سماعت کی اس لئے تبصرہ نہیں کروں گا۔ عمران خان کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد لاہور میں اپنی ان سے ملاقات کے حوالے سے جسٹس(ر)ثاقب نثارنے کہاکہ میں نے اس وقت بھی کہاتھاکہ صرف انہیں یہ سمجھانے گیاتھاکہ اداروں پر بے جاتنقید نہ کریں،آج بھی میرایہی موقف ہے۔ جسٹس (ر) ثاقب نثار نے بتایا کہ انہوں نے انگریزی لکھنی اور بولنی چھوڑ دی ہے وہ قومی زبان کو اہمیت دیتے ہیں اگر کوئی انگریزی میں بات کرے تو اس کا جواب بھی اردو میں دیتے ہیں ۔