پشاور(ممتازنیوز)خیبرپختونخوا حکومت نے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیزبیانات دینے پر پی ٹی ایم کی قیادت کے خلاف صوبے کے ہرضلع میں مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ یہ مقدمات ماضی میں فوج ،عدلیہ اور دیگرریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیزاور اشتعال انگیز بیانات کی بنا پر درج کئے جارہے ہیں ۔ان مقدما ت میں خاص طور پر پی ڈی ایم کے رہنماؤں مسلم لیگ ن کے قائدنواشریف، مریم نواز،کیپٹن (ر)صفدر ،راناثنااللہ ، خواجہ محمدآصف، مولانافضل الرحمان،مفتی کفایت اللہ ودیگرکو نامزد کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا انتظامیہ نے 19 اگست کو اعلامیہ بھی جاری کیا تھا جس میں ریاست سے غداری کا مقدمہ درج کرنے کا اختیار گریڈ 17 کے افسر کو دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پشاور کے تھانہ شرقی میں وزیراعظم شہباز شریف، سابق وزیراعظم نوازشریف، جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان، مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست ایڈوکیٹ نور شیر نے دائر کی تھی ہے۔
درخواست میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں عطا تارڑ، ایاز صادق اور سعد رفیق کے نام بھی شامل ہیں۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم قیادت نے دشمن ملک کی ایما پر ماضی میں نفرت انگیز تقاریر کیں اور ملکی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔
پشاور پولیس نے درخواست موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔
ترجمان پولیس ریاض یوسفزئی کے مطابق درخواست سے متعلق قانونی رائے حاصل کی جا رہی ہے، قانون کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا حکومت کامتنازع بیانات پر پی ٹی ایم کی قیادت کے خلاف ہرضلع میں مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ








