اسلام آباد(ممتازنیوز) وزیرداخلہ راناثنااللہ نے کہاہے کہ شہبازگل نےتفتیش میں بتایاکہ انہوں نے لکھاہوا بیان پڑھااور تحریر موجود ہے جو انہوں نے پڑھی،عمران خان کی ضمانت منسوخ ہوئی تو گرفتار کرنامجبوری ہوگی۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہارخیال کرتے ہوئے راناثنااللہ نے کہاکہ جو کٹھ پتلی ہوتا ہے اسے باقی ساری دنیاکٹھ پتلی ہی نظر آتی ہے،عمران خان خود کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ رہے ہیں اس لئے انہیں سبھی اسی طرح نظر آرہے ہیں،موجودہ حکومت اتحادی حکومت ہےیہ واحد حکومت ہے جس میں تمام سیاسی جماعتیں اپنے باہمی تضادات کے باوجودملک کی بہتری اور اسے دیوالیہ ہونے سے بچانے کےلئے شامل ہوئی ہیں۔راناثنااللہ نے کہا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی نہیں ق لیگ کی حکومت ہے سب سے بڑے ڈاکوکی حکومت ہے پنجاب حکومت اس شکل میں نہیں چل سکتی،ان میں اختلافات سامنے آنے والے ہیں ہیں،گریں گے یہ خودتاہم اس کے بعد فیصلہ ہم نے کرناہے کہ ق لیگ کو گرنے دینا ہے یانہیں۔اندرون خانہ جو کہانیاں ہم سن رہے ہیں وہ بڑی عجیب ہیں، پی ٹی آئی اور ق لیگ کے درمیان نہ معاملہ چل رہا ہے اور نہ آگے چل سکتا ہے،سنتے ہیں کہ ایم پی ایزکا ایک دھڑا پنجاب میں ان کو چھوڑناچاہتاہے،صورتحال اس سے زیادہ ابتر ہے جو فوادچودھری کےبیان میں نظرآرہی ہے۔عمران خان کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق راناثنااللہ نے کہاکہ جہاں اتحادی حکومت کے فائدے ہوتےہیں وہاں کچھ حدود بھی ہیں،ہمیں اس فیصلے سے پہلے اتحادی حکومت اور کابینہ کو اعتماد میں لیناہےاگر عمران خان کی گرفتاری کا فیصلہ ہوتا ہے تو یہ جو کہاجارہاہے کہ لوگ نکل آئیں گے اور تشددہوگا ان سب معاملات کا ہم نے جائزہ لیاہوا ایساکچھ بھی نہیں ہوگا۔اگرحکومت نے فیصلہ کیاتو عمران خان کو ضرورگرفتارکیا جائے گااس گرفتاری میں کوئی بدلے والی بات نہیں انہوں نے ایک ایسی تقریراور ایک ایساعمل کیا ،انہوں نے آفیسرزخصوصاًایک خاتون جوڈیشل افسرکو نام لے کرکہاتم تیارہوجاؤ ہم تمہارے خلاف ایکشن لیں گے یہ ایک ایساعمل ہے اگر ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہ کرتی تو تنقیدہوتی کہ آپ اس معاملے میں کیاکررہے ہیں اس لئے متعلقہ دفعات کے مطابق ہم نے ایف آئی آردی ہے،اس کے علاوہ جو غیرقانونی ریلی نکالی گئی اور جلسہ کیاگیا اس کا پرچہ علیحدہ سے دے رہے ہیں۔یہ عدالت میں گئے ہیں اگر ان کی ضمانت منسوخ ہوئی تو پھر گرفتارکرنامجبوری ہوگی۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ شہدا کے خلاف ٹرینڈ چلائے گئے کیا اس کی پی ٹی آئی نے مذمت کی؟ شہدا کے خلاف مہم جوئی کرنے والے پی ٹی آئی کے لوگ ہیں۔
شہباز گل سے متعلق وزیرداخلہ نے کہاکہ شہبازگل نے تفتیش میں بتایاکہ لکھاہوابیان تھا،ایجنسیوں کی رپورٹ میں سامنے آیاہے کہ شہبازگل کا بیان انفرادی عمل نہیں تھا،چنانچہ شہبازگل کی مہم جوئی انفرادی عمل نہیں ،ایک جماعتی عمل تھا،پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا ونگ اس کے پیچھے تھاباقاعدہ تحریر بنائی گئی جو پڑھ کرایک چینل پر سنائی گئی ایک سوچی سمجھتی کوشش تھی جو ان کو الٹی پڑگئی اس کے نتائج کاانہیں اندازہ نہیں تھا۔شہبازگل کے سیٹلائٹ فون کافرانزک آڈٹ ہوگا تو یہ سامنے آجائے گاکہاں کہاں سے اور کن کن ملکوں سے ان کی گفتگوہوئی ہے،بھارت سے جو ٹرینڈآئے ہیں اگر وہاں سے بھی ان کا کچھ لوگوں سے رابطہ ہوا تو ساری چیزیں سامنے آئیں گی،ابھی تک ٹارچرٹارچر کا شورشراباکررہے ہیں لیکن جب چیزیں سامنے آئیں گی ثابت بھی ہوں گی۔
ایک اور ٹی وی انٹرویومیں وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا دعویٰ ہے کہ شہباز گل نے اعتراف کرلیا کہ نجی ٹی وی پر دیا گیا بیان پارٹی پالیسی تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری ہونی چاہئے، اتحادیوں کی مشاورت سے گرفتار کريں گے، ان کیخلاف تین کیسز ثابت شدہ ہیں، ریلیف ملنا مشکل ہے، احتجاج کی صورت میں 25 مئی سے بہتر علاج کرینگے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی چیف الیکشن کمشنر کیخلاف بات توہین عدالت ہے، عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس بھی بہت سنجیدہ ہے، پی ٹی آئی چیئرمین نے مجسٹریٹ کیخلاف ایکشن لینے کا کہا، ان کیخلاف تین کیسز ثابت شدہ ہیں جن میں ریلیف ملنا ممکن نہیں، ہائیکورٹ نے عمران خان کو کیس کا جائزہ لینے کے بعد نوٹس جاری کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری ہونی چاہئے، اتحادیوں کی مشاورت سے انہیں گرفتار کیا جائے گا، عمران کی ضمانت منسوخ ہوئی تو پھر گرفتاری کا مسئلہ ہی نہیں، انہیون گرفتار کرکے دکھائیں گے، احتجاج کیا گیا تو 25 مئی سے بہتر ان کا علاج کریں گے۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ اہم فیصلوں میں نواز شریف کی رائے لی جاتی ہے، 2014ء میں بھی اس بات کا حامی تھا کہ عمران خان کو گرفتار کیا جائے، عمران خان نے نواز شریف کے نااہلی والے فیصلے کی حمایت کی، آرٹیکل 62 اور 63 میں بہت سی چیزیں قابل اعتراض ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک کیلئے فتنہ، فساد ہیں، وہ سیاسی بندہ نہیں، عمران خان سیاستدانوں سے بات چیت کیلئے تیار نہیں، انتخابات کا مطالبہ کررہا ہے لیکن الیکشن کمشنر کے نیچے الیکشن کیلئے تیار نہیں، الیکشن کے بعد عمران خان رزلٹ قبول نہیں کریں گے، پنجاب میں ن لیگ اکثریت سے الیکشن جیتے گی۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ ملک میں بے یقینی کی وجہ عمران خان ہیں، بے یقینی کا ایک ہی حل ہے قوم عمران خان کو پہنچانے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ شہباز گل پر جنسی تشدد قابل مذمت ہے اور افسوسناک ہے، اگر یہ الزام غلط ہے تو یہ بھی قابل مذمت ہے، شہباز گل نے اپنے تحریری بیان میں جنسی تشدد کے بارے میں نہیں صرف تشدد کے بارے میں لکھا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ شہباز گل پارلیمنٹ لاجز کے کمرے میں کس حیثیت میں رہ رہا تھا؟، پارلیمنٹ لاجز میں تو صرف اراکین اسمبلی ہی رہتے ہیں، شہباز گل کے کمرے میں پستول تھا جو کہ کارروائی میں آگیا، شہباز گل کے کمرے سے سیٹلائٹ فون بھی برآمد ہوا ہے، سیٹلائٹ فون کسی نہ کسی کے نام پر تو خریدا گیا ہوگا، سیٹلائٹ فون کا فارنزک آڈٹ کروایا جائے گا۔
رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ تحقیقات میں شہباز گل نے تسلیم کیا کہ بیان پارٹی پالیسی تھی، شہباز گل نے تحریری بیان میں کہا ہے کہ میں نے لکھا ہوا بیان پڑھا، شہباز گل کا تحریری بیان ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں، امید ہے اس معاملے کی 2 دن میں تحقیقات مکمل ہوجائیں گی۔
وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ایک سوال پر کہا کہ اکتوبر کے آخر یا نومبر کے شروع میں آرمی چیف کی تعیناتی ہوسکتی ہے۔
شہبازگل نےتفتیش میں بتایاانہوں نے لکھاہوا بیان پڑھااور تحریر موجود ہے ، راناثنااللہ








