اسلام آباد(ممتازنیوز) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان اپنے بیان پر معافی نہیں مانگیں گے بلکہ ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے، اگر پاکستانی جوڈیشری کو 130 نمبر سے نیچے لانا ہے تو ججز کو ہیومن رائٹس کیساتھ کھڑا ہونا ہوگا،ابھی طے ہونا ہے ہائیکورٹ نے کس قانون کے تحت سوموٹو ایکشن لیا، سوموٹو لینے کا اختیار صرف سپریم کورٹ کے پاس ہے، چیف جسٹس آف پاکستان کو ٹارچر پر نوٹس لے کر کمیشن بنانا چاہیے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ سانحہ لسبیلہ (ہیلی کاپٹر) حادثے پر ہمارے لوگوں نے شہدا کے لیے دعاؤں کے لاکھوں ٹویٹ کیے۔ انہوں نے کہا کہ شہدا کے خلاف ٹرینڈ چلانے والوں کا تعلق پی ٹی آئی سے جوڑنا سرا سر زیادتی ہے کیونکہ ایسے کسی بھی اکاؤنٹ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔
سانحہ لسبیلہ کے بعد شہداء کے حق میں ہونے والے ٹویٹس کا ڈیٹا دیکھ کرتجزیہ کروا لیں، 90 فیصد ٹویٹس تحریک انصاف کے حامیوں نے کی ہیں، واقعی، یہ بات سن کر سوچ رہا ہوں کہ ن لیگ کے اکاونٹس سے شہداء کے حق میں کم ہی ٹویٹس دیکھی گئی ہیں
فواد چوہدری نے کہا کہ کچھ پارٹی رہنما توہین عدالت سے ڈرتے ہیں،اس لیے باہر نہیں نکلے جبکہ شہباز گل سے ملاقات کے لیے پمز ہسپتال جانے والوں کو پولیس افسر نے مقدمات کا سامنا کرنے کی دھمکی بھی دی۔
انہوں نے کہا کہ شہبازگل کوپہلےدن سی آئی اےتھانےمیں رکھا گیا اور پھر اُن کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر برہنہ کر کے تشدد کیا گیا، شہبازگل نے پہلے دن ہی مجسٹریٹ کےسامنےقمیص اٹھا کرتشدد کے نشانات دکھائے تھے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ شہبازگل کی آنکھوں پرپٹی تھی، اس لیے وہ تشدد کرنے والوں کی شناخت نہیں کرسکے، پولیس یا کسی بھی ادارے کی جانب سے تفتیش کامطلب لوگوں کی تذلیل کرنانہیں ہوتا، ہمیں اس روایت کو ختم کرنا ہوگا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہبازگل پرتشدد کی تحقیقات کیلئے طاقتورکمیشن بناناچاہیے، جو الزامات کو دیکھے اور پھر ذمہ داران کا تعین کرے۔ شہبازگل کےکمرے سے ملنے والے پسٹل اورسیٹلائٹ فون بارےمعلوم نہیں، پارلیمنٹ لاجزمیں شہبازگل اوربھی بہت سےلوگ غیرقانونی رہ رہے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان سازشی نہیں اورنہ ہی وہ ایساکرسکتےہیں، جج بات سنےبغیرکسی کو ریمانڈ پر بھیج دے تو یہ خلافِ ضابطہ ہے، خاتون جج نے تشدد کا نوٹس نہیں لیا اور جسمانی ریمانڈ دے دیا، اسلام نے 14 سوسال پہلے قیدیوں کے حقوق متعارف کرادیےتھے، اگر پاکستانی عدلیہ کو بہتر بنانا ہے تو ججزکو انسانی حقوق پر کھڑے ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ شہبازگل تشدد کے پیچھےآئی جی اورڈی آئی جی اسلام آباد ہوسکتے ہیں، عمران خان ہرگزمعافی نہیں مانگیں گے، ہم کیس لڑیں گے، اگر ہائی کورٹ میں کیس ہارگئے توسپریم کورٹ جائیں گے، اگرفیصلہ ہمارےخلاف آیا تو ہم نظرثانی اپیل دائرکریں گے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ آج دنیا کے ہر اخبار میں عمران خان پر کیس کی خبر ہیڈلائن میں ہے، عمران خان کی گرفتاری کی خبر سُن کر صوبائی حکومتیں نہیں ورکرز نکلے تھے۔کچھ پارٹی رہنما توہین عدالت سے ڈرتے ہیں، اس لیے باہر نہیں نکلے۔









