اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد سے متعلق بعض حکومتی ارکان کو چھپائے جانے کا انکشاف ہوا۔ نجی ٹی وی کے مطابق اپوزیشن کی طرف سے حکومتی ایم این ایز کو سندھ ہائوس ،فارم ہائوس میں چھپایا گیا جبکہ سندھ ہائوس کے باہر سندھ پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کردی گئی ہے، کچھ ارکان کو پارلیمنٹ لاجز میں بھی چھپایا گیا ہے ۔اپوزیشن کی طرف سے جن ارکان کو چھپایا گیا ان کے نام حکومت کو پتا چل گئے ہیں ان میں تین خواتین اراکین بھی شامل ہیں ۔ حکومت نے اپوزیشن سے بیک ڈور رابطے کے ذریعے اپنے ارکان کی واپسی کا پیغام بھیجا ہے جبکہ اپوزیشن کو خبردار بھی کیا ہے کہ اگر ارکان کو رضاکارانہ طور پر واپس نہ کیا گیا تو انہیں دن دیہاڑے بازیاب کرایا جائے گا ۔ ادھر حکومت کی طرف سے ارکان کو بازیاب کرائے جانے کے ڈر سے اپوزیشن نے چھپائے گئے ارکان کو سکھر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔نجی ٹی وی کے مطابق تین خواتین ارکان کو آئندہ چوبیس گھنٹے میں سکھر منتقل کردیا جائے گا، ارکان کی سکھرمنتقلی پہلے بذریعہ طیارہ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی تاہم بعد میں بذریعہ روڈ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق حکومتی ارکان کو پیپلزپارٹی کے سینئر ترین رہنما کی گاڑی میں سکھر منتقل کیا گیا۔علاوہ ازیں حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے بھی تصدیق کی ہے کہ پی ٹی آئی کے دس سے بارہ ارکان اپوزیشن کی سیف کسٹڈی میں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ ارکان ہم سے ملنے آئے تھے ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز الٰہی نے کہا کہ ان کی شہباز شریف سے فون پر بات ہوئی ہے ابھی تک ملاقات نہیں ہوئی ، بی اے پی اور ایم کیو کا جھکائو فی الحال اپوزیشن کی طرف ہے جبکہ ہمارا مشاورتی عمل ابھی جاری ہے،گزشتہ روز کے اپنے بیان پر قائم ہیں۔انہوں نے کہا کہ جہانگیرترین گروپ مائنس بزدار کی بات کررہا ہے ۔ پرویز الٰہی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ترجمان آف دی ریکارڈ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نیب اورایف آئی اے ہے ، نیب نے مونس الٰہی کو کلیئر قراردیا ہے ۔
حکومتی ارکان کو سندھ ہاوس اور لاجز میں چھپائے جانے کا انکشاف،پرویز الٰہی کی تصدیق








