بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جعلی اور غیر معیاری دوا کی تصدیق کیسے کریں؟ آسان طریقہ

ملک سے جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کا خواب حقیقت کے قریب پہنچ گیا ہے۔

ڈریپ(Drap) ذرائع کے مطابق ملک بھر میں فارما ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کا فیصلہ رواں سال سے کر لیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت میڈیسن پیکٹس پر بارکوڈ سسٹم کے نفاذ کے لیے 9 اکتوبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک بھر کی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو بارکوڈ اور سیریلائزیشن کے حوالے سے باقاعدہ احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ یہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم انسانی اور ویٹرنری ادویات بنانے والی تمام کمپنیوں پر نافذ ہوگا۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو ملک بھر میں اس نظام کے نفاذ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ادویہ ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے پیکٹس پر بارکوڈ کا نفاذ لازمی قرار دیا گیا ہے، جب کہ کمپنیوں کو دوا کے پیکٹس پر ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق ڈریپ نے اس حوالے سے پی پی ایم اے، پی وی پی اے اور فارما بیورو کو مراسلے ارسال کیے ہیں، جب کہ پاکستان کیمسٹ اور ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح صوبائی ڈائریکٹر جنرل ڈرگ کنٹرول اور چیف ڈرگ انسپکٹرز کو بھی مراسلے جاری کیے گئے ہیں۔

مزیدپڑھیں:فیفا ورلڈ کپ راؤنڈ آف 32: کون سی ٹیم کس کے مد مقابل ہو گی؟

مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ فارما کمپنیز 9 اکتوبر سے قبل ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کے لیے تمام انتظامات مکمل کریں۔ کمپنیوں کے لیے ادویات کے پیکٹس پر ٹو ڈی بارکوڈ کی پرنٹنگ لازمی قرار دی گئی ہے۔

وفاقی کابینہ پہلے ہی ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے چکی ہے اور ڈرگ لیبلنگ و پیکنگ رولز 1978 میں ترامیم کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔

جعلی دوا کی تصدیق؟
ذرائع کے مطابق صارفین پیکٹس پر موجود ٹو ڈی بارکوڈ کے ذریعے ادویات کی تصدیق خود کر سکیں گے۔ اس نظام کے تحت شہری ڈیجیٹل طریقے سے دوا کی جانچ پڑتال کر سکیں گے، جب کہ بارکوڈ سسٹم کے ذریعے جعلی اور غیر معیاری ادویات کی نشان دہی اور خاتمہ ممکن ہوگا۔

اس کے علاوہ دوا کی میعاد، استعمال اور قیمت سے متعلق مستند معلومات کی تصدیق بھی ممکن ہو سکے گی۔ ڈریپ نے اس نظام کے حوالے سے متعلقہ فریقین سے مشاورت بھی مکمل کر لی ہے۔