بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عدم اعتماد ، ہمار ے پاس ارکان کی تعداد190ہوگئی ،مولانا فضل الرحمان کا دعویٰ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ہمار ے پاس 190ارکان موجود ہیں ،عمران خان کے پاس عدم اعتماد سے بچنے کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ استعفیٰ دیں،پی ٹی آئی کے کسی ممبر سے رابطہ نہیں کیا ، ہماری حکمت عملی شروع سے ہی حکومتی اتحادیوں سے رابطے کرنے کی تھی ،اسلام آباد میں دس لاکھ لوگ اکٹھے کرنے کی حکومتی دعوے مذاق ہیں ،لوگ ریاست کے ساتھ حکومت کے ساتھ نہیں ۔نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ23 مارچ کو ہی لانگ مارچ ہوگا ، اس روز دور دراز سے قافلے چل پڑیں گے تاہم ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد میں داخلہ پچیس مارچ کو ہو کیونکہ اسلام آباد میں او آئی سی اجلاس کےلئے مہمان ہوں گے اس لئے پچیس مارچ کو شام کو قافلے اسلام آباد میں داخل ہوں گے ، ہمیں اسلام آباد میں کچھ روز رہنا پڑے گا ،انہوں نے کہا کہ ہم نے لانگ مارچ کا اعلان نومبر میں کیا تھا تاہم بعد میں تحریک عدم اعتماد جیسی نئی چیزیں سامنے آگئیںجس سے لانگ مارچ کا معاملہ پس منظر میں چلا گیا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ ہم اسلام آباد میں دس لاکھ لوگ اکٹھے کریں گے ، دس لاکھ لوگ تو اس وقت اکٹھے نہیں کرسکے تھے جب انہیں عروج دیا گیا دس لاکھ لوگ اکٹھے کرنے کی بات مذاق ہے ، ان کے جلسوں میں پٹواری ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے طے کرلیا ہے کہ اسلام آباد آئیں گے اور اس وقت تک اسلام آباد میں رہیں گے جب تک ممبران اپنا ووٹ استعمال نہیں کرلیتے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومتی ممبران پر قانون اسی صورت میں لاگو ہوگا جب وہ اپنا ووٹ استعمال کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کسی حکومتی ممبر سے رابطہ نہیں کیا ، اگر وہ خود حکومت کی کاکردگی سے مطمئن نہیں تو وہ ووٹ دیں گے،ارکان کو غائب کرنے سے متعلق مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ ان کو مختلف ممالک میں سرکاری خرچے پر لے جایا گیا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک سو نوے تک ارکان موجود ہیں ،ہماری پہلے دن سے یہ حکمت عملی طے ہے کہ حکومت کے اتحادیوں سے رابطہ کرنا ہے ،انفرادی طو رپر کسی سے رابطہ نہیں کریں گے ، اتحادیوں سے ہونے والی بات چیت ہمارے لئے حوصلہ افزا ہے حکومت کےلئے نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم ساڑھے تین سال سے سڑکوں پر ہیں ،ق لیگ پر ہمارا قرض ہے دو سال سے ان کے ساتھ ہمارا رابطہ ہے ، وہ کہتے رہے ہیں کہ ہم حکومت کے ساتھ نہیں چل سکتے ،اب ان کو اپنا وعدہ پورا کرنا ہے ۔ایک اور سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ ملک ہم سب کا ہے اداروں سے جو شکایات تھیں ہم نے ان کا اظہار کیا انہوں نے بھی مشاہدہ کیا ہے کہ ملک ڈوب رہا ہے ،میں دوہزار سترہ میں بھی کہہ چکا ہوں کہ پانامہ کے بعد پہلے سیاسی اور پھر معاشی عدم استحکام کی طرف لے جایا جائے گا اور پھر اس کے بعد سویت یونین کی مثال ہمارے سامنے ہے ، اگر ہم اس ملک کے ساتھ وفادار ہیں تو پھر ہمیں یہ فرق نہیں کرنا چاہیے کہ ہم سیاستدان ہیں ،کوئی بیوروکریٹ ہے اور کوئی پولیس میں ہے ، آج ملک کی حالت ابتر ہے ،دوست ملکوں نے ہمیں تنہا چھوڑدیا ،یہی چیزیں ہیں کہ اب ادارہ بھی سوچ رہا ہے کہ کب تک ان کا ساتھ دیں ، اب ادارے کے حوالے سے حالات بہتر نظر آرہے ہیں ،ا گر کوئی انفرادی طو رپر ان کے ساتھ ہے تو اس میں ان کے ذاتی مفاد ہوسکتے ہیں ملکی نہیں ۔مولانا نے کہا کہ ہمیں کوئی گارنٹی نہیں دی گئی اور نہ ہی ہم گارنٹی لیتے ہیں ، ہم سیاسی لوگ ہیں اور سیاسی حالات کے مطابق ہی آگے بڑھتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم دوہزار اٹھارہ کے بعد کہتے رہے ہیں کہ دھاندلی ہوئی اور موجودہ حکمران حکومتی نمائندے نہیں ،جو لوگ ان کی پشست پر تھے اگر یہ اچھی کارکردگی دکھاتے تو وہ بھی کہتے کہ کارکردگی تو اچھی رہی ہے تاہم اب ہم انہیں لانے یا نہ لانے والے موضوع سے آگے نکلتے ہیں ، اب ہمیں ملکی بہتری کی طرف جانا ہے ، ملک کو سول نافرمانی یا عوامی بغاوت جیسے حالات سے بچانا ہے ،آج لوگ ریاست کےساتھ تو کھڑے ہیں لیکن حکومت کے ساتھ نہیں ہیں ۔اسلام آباد میں جلسوں سے ممکنہ تصادم سے متعلق مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کوئی تصادم نہیں ہوگا ، حکومت کے پاس لوگ ہی نہیں ہیں، ہم ہر قربانی دینے کو تیار ہیں ،اسلام آباد ضرور آئیں اور ان کو کہیں جگہ نہیں ملے گی ،یہ کسی ایک ممبر کو بھی ہاتھ لگانے کی ہمت تو کریں ہم نے کوئی چوڑیاں نہیں پہن رکھیں ،یہ ایک ناجائز ،نالائق اور بدبودار حکومت ہے ۔ایک اور سوال پر مولانا نے کہا کہ ق لیگ اور ن لیگ میں قربتیں آرہی ہیں ، اگر زرداری اس میں ضامن ہیں تو اچھی بات ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا اتحاد صرف عمران خان کو نکالنے کےلئے نہیں بلکہ پورانظام ٹھیک کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ انتخابات سے پہلے اگر اصلاحات ضروری ہیں تو ہونی چاہیئں تاہم یہ موضوع تب زیر غور آئے گا جب اس کا وقت ہوگا،شہبازشریف کے ممکنہ وزیراعظم ہونے سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ ایک اصول کی بات ہے کہ قائد حزب اختلاف ویٹنگ وزیراعظم ہوتا ہے چنانچہ اسی تناظر میں یہ باتیں ہورہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے پاس تحریک عدم اعتماد سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ استعفیٰ دے دیں ۔