بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عمران سے سکیورٹی واپس نہیں لی،اسلام آبادپولیس کی وضاحت

اسلام آباد(ممتازنیوز) وفاقی پولیس نے سابق وزیراعظم عمران خان سے سکیورٹی واپس لینے سے متعلق پی ٹی آئی رہنمائوںکے دعوے کی تردیدکرتے ہوئے کہاہے کہ سابق وزیراعظم سے سکیورٹی واپس نہیں لی اور اگرضرورت پڑی تو اضافی سکیورٹی بھی مہیا کی جائے گی۔اپنے ایک بیان میں وفاقی پولیس کے ترجمان نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سابق وزیراعظم کی مروجہ سکیورٹی دی جارہی ہےان سے سکیورٹی واپس نہیں لی، اس حوالے سے غلط تشہیر کی جارہی ہے۔ اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ ایس پی کی سربراہی میں 77پولیس اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔دوسرے صوبوں سے قانونی ضابطہ کار کے مطابق نفری فراہم کی گئی تو وہ بھی سابقہ وزیراعظم کو مہیا کی جاسکتی ہے۔ اسلام آباد پولیس ہر قسم کے حالات میں اپنے فرائض ادا کرنے میں پیش پیش ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ عمران خان کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے انکو مد نظر رکھتے ہوئے سابق وزیراعظم کو مقررہ تعداد سے زائد سکیورٹی مہیا کی جا رہی ہے، مزید ضرورت پڑی تو اضافی سکیورٹی بھی مہیا کی جائے گی۔ پولیس حکام نے مزید بتایا کہ دوسرے صوبوں کی پولیس وزارتِ داخلہ کی اجازت اور پولیس رولز کے مطابق ہی طلب کی جا سکتی ہے۔ وفاقی پولیس نے عوام سے گزارش کی کہ غیر مصدقہ اطلاعات پر کان مت دھریں اوراسلام آباد کیپٹل پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری نے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیاتھا کہ اسلام آباد پولیس نےکل شام سے عمران خان اور ان کی رہائش گاہ کی سکیورٹی واپس لے لی ۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور ان کی رہائش گاہ کی سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، یہ خلاف قانون ہے، مگر اس امپورٹڈ حکومت میں قانون کی کس کو پرواہ ہے۔ شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ قوم آگاہ رہےکہ سازشی عناصر کیسے عمران خان کی زندگی کے لیے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔