اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف نے کہا کہ یہ کیا طریقہ ہے طلال چودھری اور دانیال عزیز کو تو سزا دیتے ہیں مگر عمران خان کو اس لئے اجازت نہ دیں کہ وہ “پاپولر” ہے ، “پاپولر” ہونے کا پیمانہ کس کے پاس ہے ؟۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے جاوید لطیف نے کہا کہ انسان اس وقت مشہور ہوتا ہے جب وہ بھٹو صاحب کی طرح پھانسی پر چڑھے ، جب نواز شریف کی طرح دو تہائی اکثریت والے لیڈر کو ہائی جیکر بنا دیں ، جب دوبارہ دو تہائی اکثریت لے تو پھر اسے گھر بھیج دیں ، ہم نے تو کسی کو خط نہیں لکھا ، ہم نے فارن فنڈنگ نہیں کی ، ہم نے ایسے کسی طریقے سے پیسے اکٹھے نہیں کئے ،ہم نے تو کبھی عالمی رہنماؤں کو خط نہیں لکھے ، اگر طاقتور اور پاپولر لوگوں نے آئین وقانون کو ماننا ہی نہیں تو اداروں میں بیٹھے افراد جنہیں عوامی ٹیکس کا پیسہ دیا جا رہا ہے کاکیا فائدہ ، ایسے ادارے ٹھپ کر دیں ۔
جاوید لطیف نے کہا کہ آرٹیکل 5 قومی مفادات کا کہتا ہے شوکت ترین نے قومی مفادات کا سودا کیا ، عمران خان کی زیر صدارت ہونے والی میٹنگ میں شرکت کے بعد شوکت ترین نے وزیر خزانہ خٰبرپختونخوا اور پنجاب کو ہدایت دی اور آپ کہتے ہیں یہ پاپولر ہے ، اگر آپ شہباز گل سے آزادانہ تفتیش ہونے دیتے تو یہ شوکت ترین والا معاملہ نہ ہوتا، وزیر اعظم سے کہتا ہوں کہ میں آپ کی کیبنٹ کا ممبر ہوں مگر پاکستانی بھی ہوں ، بطور پاکستانی درخواست کرتا ہوں کہ شوکت ترین کو فوری طور پر گرفتار کر کے تحقیقات کی جانی چاہئے تا کہ عمران خان کے پیچھے جو فورسز ہیں ، جو سازش ہے اس کو بے نقاب کر کے عوام و قوم کے سامنے لایا جائے ۔









