لاہور(نیوز ڈیسک)پنجاب کے وزیرِ تعلیم مراد راس کو اپوزیشن اتحاد (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن پر تنقید کرنا مہنگا پڑگیا، انہیں آگے سے تعلیم حاصل کرنے کے مشورے ملنے لگے۔
مراد راس نے گزشتہ روز مولانا فضل الرحمٰن کی ایک ’کلوز فوٹو‘ شیئر کی اور ساتھ ہی لکھا کہ یہ کون ہیں؟ مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم کی جانب سے ایسے طنزیہ ٹوئٹ پر جہاں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا وہیں پی ٹی آئی کے حامیوں نے بھی اپنے تبصرے کیے۔
ایک صارف نے مراد راس کے لیے لکھا کہ ’پنجاب کے صوبائی وزیر کو خود کو تعلیم کی ضرورت ہے۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ یہ ہمارے وزیر تعلیم ہیں جو ایک ترمیم شدہ تصویر کا استعمال کرکے ایک سیاسی حریف اور ایک عالمِ دین کو بدنام کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں تعلیم اور اخلاقیات کے معیار کا تصور کریں۔
صارف نے مراد راس کے اس ٹوئٹ کو ’شرمناک‘ بھی قرار دیا۔
عادل شکیل نامی صارف نے لکھا کہ ’پی ٹی آئی والے اتنے گر جائیں گے مجھے اس کی امید نہیں تھی، وزراء ناشائستہ زبان استعمال کر رہے ہیں اور غیر اخلاقی رویے کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔‘
ایک صارف نے کہا کہ کیا کوئی یہ یقین کر سکتا ہے کہ یہ بندہ پنجاب کا وزیر تعلیم ہے۔
ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے صارفین یہ بھی کہتے دکھائی دیے کہ عمران خان کے نئے پاکستان میں سب ممکن ہے۔
حفصہ بتول نامی صارف نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کی سپورٹر ہوں لیکن ایک وزیر کا ایسا ٹوئٹ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔








