کراچی (نیوز ڈیسک) دو دہائی قبل، دبئی میں سونے کی ریفائنری قائم کرنے کیلئے کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی پر دبئی میں سرکاری کاروباری ادارے نے اے آر وائی گروپ پر بے ایمانی اور شرمناک لالچ کا الزام عائد کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی سوشل میڈیا روایات کے برعکس دبئی ملٹی کموڈیٹیز سینٹر (ڈی ایم سی سی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد بن سلیمان نےسوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 21؍ سال قبل اے آر وائی گروپ نے وعدہ کیا تھا جس پر کام اب تک 20؍ سال میں بھی پورا نہیں ہوا اور اب یہ معاملہ ڈی ایم سی سی کیلئے مضر صحت بن چکا ہے۔ فیس بک پر جاری کردہ پوسٹ کے مطابق، احمد کا کہنا تھا کہ اے آر وائی کا وعدہ 21؍ سال بعد بھی وفا نہیں ہوا، بدقسمتی سے ایسا لگتا ہے کہ شرمناک لالچ کی وجہ سے یہ لوگ اندھے ہوگئے ہیں، کیا بین الاقوامی سطح پر کاروبار میں اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایسا رویہ رکھا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے حکام ناراض ہیں کیونکہ دو دہائی قبل اے آر وائی نے جدید طرز پر سونے اور زیورات کی ریفائننگ اور پراڈکشن کا کمپلیکس ’’اے آر وائی آئورم پلس‘‘ بنانے کا معاہدہ کیا تھا جو اب تک مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ یہ واضح نہیں کہ اس مقصد کیلئے زمین رعایتی نرخوں پر دی گئی تھی یا نہیں، اور معاہدے کی شرائط کیا تھیں۔ دبئی کے سرکاری عہدیدار نے مزید لکھا ہے کہ میں یہ افسوس ناک معاملہ ہارورڈ بزنس ریویو اسٹڈی میں شامل کرنے جا رہا ہوں تاکہ اس طرح کی ہزیمت ماسٹر ڈویلپرز کو نہ اٹھانا پڑے۔ اے آر وائی والوں کی نا اہلی کی وجہ سے یہ لوگ 20؍ سال سے ایک اسکیم کو الٹ پلٹ کر رہے ہیں حالانکہ انہیں نیک نیتی کے ساتھ ہماری کمیونٹی کیلئے کردار ادا کرن چاہئے تھا جیسا کہ ہمارے دوسرے ممبرز بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جتنا عرصہ اے آر وائی نے اس پروجیکٹ میں لگا دیا ہے اس عرصہ کے دوران ڈی ایم سی سی اتھارٹی نے کئی شاندار پروجیکٹس مکمل کیے ہیں اور اس تمام عرصہ کے دوران اے آر وائی کی شرمناک، باعثِ ہزیمت، تباہ حال اور صحت کیلئے مضر نامکمل ریفائنری مسلسل سڑ رہی ہے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ ہمارے ہر پروجیکٹ کو مکمل ہونے میں 8؍ سے 36؍ مہینے لگے اور ان کی وجہ سے نہ صرف ڈی ایم سی سی بلکہ دبئی اور متحدہ عرب امارات کیلئے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اے آر وائی ہماری کمیونٹی میں ایک بدنما اضافہ ہے، ان میں ڈی ایم سی سی کی کامیابیوں کا احترام ہے اور نہ ہماری قومی قیادت کی بصیرت کا یا ہمارے وقار کا۔ متحدہ عرب امارات کے مقامی اخبار کے مطابق، تقریباً دو دہائی قبل دبئی میں منظم ترقی کیلئے 25؍ ملین ڈالرز کی فنانسگ کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ اُس وقت اے آر وائی نے اسے جنرل شیخ محمد بن راشد المکتوم (دبئی کے ولی عہد شہزادہ اور متحدہ عرب امارات کے وزیر دفاع) کی بصیرت کے فروغ کی جانب بڑا قدم قرار دیا تھا کہ دبئی کو عالمی کاروبار کا مرکز بنایا جائے، اسی سلسلے میں اے آر وائی گروپ نے دبئی میٹلز اینڈ کموڈیٹیز سینٹر میں سونے اور زیورات کی جدید ریفائنری بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اے آر وائی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں زمین کے قانونی حقوق حاصل ہیں اور وہ جلد ہی اس معاملے کو متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر حل کر لیں گے۔ حال ہی میں وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب نے اے آر وائی پر الزام عائد کیا کہ کمپنی نے پی ٹی آئی حکومت کا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے سرکاری نشریاتی ادارے کے ساتھ غیر قانونی معاہدے کیے جس سے ملک کے سرکاری ٹی وی کو بھاری نقصانات اٹھانا پڑے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے اے آر وائی پر پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران ٹیکس فراڈ کے ذریعے اربوں روپے کمانے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔ ٹیکس فراڈ میں غیر قانونی طور پر ٹی وی ڈرامے دبئی ایکسپورٹ کرنے اور پھر غیر قانونی ٹیکس استثنیٰ حاصل کرکے انہیں درآمد کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ کسی بھی طرح کی نیلامی اور شفافیت کے بغیر ہی اربوں روپے مالیت کی زمین اے آر وائی کو دیدی گئی اور بدلے میں ادارہ سیاسی میڈیا کوریج فراہم کرتا رہا۔ نون لیگ کی سینئر رہنما مریم نواز نے اے آر وائی پر پی ٹی آئی کی طرف سے سیاست دانوں کو غدار بنانے کی مہم چلانے کا بھی الزام عائد کیا۔ اے آر وائی کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہے اور جو کچھ کیا گیا وہ قانون کے مطابق ہے اور اس کی نیوز کوریج ہر ایک کیلئے، شفاف اور مکمل طور پر تعصب سے پاک ہے۔ اے آر وائی گروپ کی تاریخ برطانیہ میں ہتک عزت کے سنگین کیسز میں شکست کھانے سے بھری پڑی ہے۔ اب تو برطانیہ میں اے آر وائی اپنے نام کے ساتھ کام نہیں کرتا۔ اکثر و بیشتر اے آر وائی کا نشریاتی مواد برطانی کے قوانین یا میڈیا کے اصولوں کیخلاف نظر آتا ہے۔ 2011ء میں اے آر وائی کی جانب سے لاکھوں مالیت پونڈز کا ڈیفالٹ کرنے پر اس کے اثاثہ جات فروخت کر دیے گئے تھے۔ اس کی نئی کمپنی اے آر وائی نیٹ ورک لمیٹڈ (اے آر وائی نیٹ ورک) 2016ء میں جنگ اور جیو کے ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمان کیخلاف سب سے بڑا ہتک عزت کا کیس برطانیہ میں ہار چکا ہے۔ اس کے بعد میر شکیل الرحمان 2022ء میں اے آر وائی کیخلاف برطانیہ میں ہی ایک اور کیس جیت چکے ہیں۔ جنوری 2019ء میں میر شکیل الرحمان اے آر وائی کے مواد کے حوالے سے آف کوم میں دائر کردہ کیسز بھی جیت چکے ہیں، جبکہ جنوری 2019ء میں ایک اور کیس بھی جیت چکے ہیں۔ جن دیگر لوگوں نے برطانیہ میں اے آر وائی کیخلاف کیسز جیتے ہیں اُن میں معروف صنعتکار میاں منشاء، جے ایس بینک کے جہانگیر صدیقی، 2019ء میں احمد نورانی اور مرتضیٰ علی شاہ کی آف کوم کی کامیابی، 2018ء میں ڈاکٹر سید عالم شاہ ہتک عزت کیس، 2021ء میں اسحاق ڈار ہتک عزت کیس، 2021ء میں نون لیگ کے ناصر بٹ کا ہتک عزت کیس، وکیل امجد ملک کی کامیابی کا کیس، 2016ء میں ملالہ یوسف زئی کے والد ضیاء الدین یوسف زئی کا کیس، سابق وفاقی وزیر چوہدری برجیس طاہر کی آف کوم سے 2106ء میں کامیابی کا کیس۔پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت میں سابق مشیر برائے ہوا بازی شجاعت عظیم بھی اے آر وائی کیخلاف کیس جیت چکے اور ان سے معافی مانگی گئی تھی، شجاعت عظیم کا کیس کارٹر رک لاء فرم نے لڑا تھا۔
ARY نے بے ایمانی اور شرمناک لالچ کا مظاہرہ کیا، دبئی سرکاری عہدیدار








