اسلام آباد(ممتازنیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاک افواج میں تمام تقرریاں میرٹ پر ہوئیں ہیں، عمران خان بتائیں کون سے آرمی چیف کی تقریری میرٹ پر نہیںہوئی،نون لیگ کے دور میں تقریری ہوئی اسے توسیع عمران خان نے خود دی،تین سال تک جس آرمی چیف کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے اس میں انہیں خرابیاں نظر آتی ہیں ، اپنے دور میں ملکی سیکورٹی کے حوالے سے اہم ترین اجلاسوں میںنہیں آتے تھے، سیاسی قائدین کو بریفنگزبھی آرمی چیف کے حوالے ہوتی تھیں ، آج جب عمران خان کے پاس اقتدار نہیں رہا تو وہ پاک فوج کی پوری قیادت پر حملے کر رہے ہیںاور آئندہ ہونے والی تقریری کے بارے میںجان بوجھ کر شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں ، میرٹ کی بات کرنیوالے کے پہلے اپنے ہاتھ صاف ہونے چاہیے جبکہ عمران خان کے ہاتھ کسی طوربھی صاف نہیں ہیں۔بدھ کو وزیر دفاع خواجہ آصف نے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔
وزیر دفاع خواجہ آٓصف نے کہا کہ چئیرمین تحریک انصاف نے فیصل آباد جلسے میں آرمی چیف کے حوالے سے باتیں کیں تھیں لیکن منگل کو پشاور جلسے میں اپنی بات کو ایک نیا مطلب پہنادیا ہے اور یہ ایک سوچی سمجھی سٹریٹیجی کے تحت کیا جاتا ہے کہ پہلے اٹیک کیا جائے اور اداروں کو متنازع بنایا جائے اور ری ایکشن دیکھا جائے بعد میں کہا جائے کہ میں تو میر ٹ کی بات کی تھی ۔ میرے مطابق پاک افواج میں تمام تقرریاں میرٹ پر ہوئیں ہیں ، جو اداروں کی جانب سے تین یاچار سنئیر افسران نام آتے ہیں ان میں سے وزیر اعظم ایک کو منتخب کر دیتے ہے ۔ انھوں نے کہا کہ آج عمران خان کے قریب ترین لوگوں سے بیان کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم نے سنا ہی نہیں ہے ، معلوم نہیں عمران خان نے کیا کہا، لوگ کمنٹ کرنے سے کتراتے ہیں یہاں تک کہ صدرمملکت جو انکی پارٹی کہ ہیں انھوں نے بھی عمران خان کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کر لیا ہے ۔ خواجہ اصف نے کہاکہ عمران خان بتائیں کب آرمی چیف کی تقریری میرٹ پر نہیںہوئی ، نون لیگ کی آخری تقریری موجودہ آرمی چیف کی جنکو توسیع عمران خان نے خود دیا اور تین سال میں موجودہ آرمی چیف جتنی تعریفیں کی ہیں شاید ہی کسی اور کی ہے ، سیلاب اور دوسری آفات میں خدمات ہیں، عمران خان تو بڑی بڑی میٹنگز میں نہیں آتے تھے اور یہا ںتک کہ سیاسی بریفنگزبھی آرمی چیف کے حوالے ہوتی تھیں ، آج جب عمران خا ن کے پاس اقتدار نہیں رہا تو پاک فوج کی پوری قیادت پر اٹیک کر رہے ہیںاور آنے والی تقریری کے لیے جان بوجھ کر شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں ، میر ٹ کی بات عمران خان کیسے کر سکتے ہیں ، کیا سابق وزیر اعلی ٰ پنجاب عثمان بزدار اور موجودہ وزیر اعلیٰ کے پی کی تقریری میرٹ پر ہوئی ہے ، کونسی تقریری ہے جو میرٹ پر کی ہے ،بی آرٹی پر تحقیقات بند کر وادی ، توشہ خانہ میں کے بارے میں بات نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہیرے سستے ہیں توشہ خانہ تحائف رکھ لیے ، 180ملین پاﺅنڈ برطانیہ کی ایجنسی نے بھجوایا اس میں صرف سپریم کورٹ لکھا ہوا ہے ، یہ کس نے لکھوایا اور کس کو چلاگیا ، یہ رقم بحریہ ٹاﺅن کی لائبرری کے اکاﺅنٹ پر چلا گیا کیا یہ سب میرٹ ہے ۔ انھوں نے کہا کہ میرٹ کی بات کرنیوالے کے ہاتھ صاف ہونے چاہیے لیکن عمران خان کے ہاتھ صاف نہیں ہیں ، کونسی ٹرانزیکشن میرٹ پر کی ہے ، چینی ، گندم ، ادوایات کی تحقیات میرٹ پر نہیں ہوئی ۔ جب آپ کو عدم اعتماد سے ہٹا دیا جائے تو پھر کبھی ایک ادارے پر الزام لگا تے ہیں اور کبھی دوسرے پر لگاتے ہیں ،کبھی امریکا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور ساتھ ہی امریکا کو خوش رکھنے کے لیے 25ہزار میں ایک میراثی بھی رکھ لیں ۔ کے پی اور پنجاب میں صحت کا بادشاہ انکا اپنا کزن بنا ہوا ہے جو امریکا سے بیٹھ کر کام کرتا ہے ۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ملک میں ادارے موجود ہیں اور عمران خان کی کرپشن کی تحقیقات کر رہے ہیں ، فارن فنڈنگ سے بات آگے چلی گئی ہے اور اب ساری چیزی سامنے آئیں گی ۔ نیوز کانفرنس سے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عمران خان میرٹ کی بات کیسے کرتے ہیں کیا ، مراد سعید، شہریار آفرایدی ، عثمان بزدارمیرٹ پر تھے ، فرح خان جو پنجاب میں ٹرانسفر پوسٹنگ کر رہی تھیں یہ سب میرٹ پرتھیں ، عمران خان کو جواب دیں کہ فرح خان سب کچھ انکی مرضی سے کرتی تھیں یہ نہیں ۔ خاور مانیکا زمینوں کے انتقال پیسے لیتے تھے کیا یہ بھی میرٹ میں تھا ۔ بی آرٹی میں تحقیقات کو کیوں رکوایا اور یہ بات تو پتہ چلنے دیں ذلفی بخاری کا اس میں کیا انٹرسٹ تھا ۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عمران خان بتائیں کہ کیا شوکت خانم ٹرسٹ کے پیسے پی ٹی آئی کے لیے استعمال نہیں ہوا، لندن سے چیریٹی کا آنے والا پیسہ بھی سیاست لے استعمال کیا ۔(اسد)









