اسلام آباد (ممتاز نیوز)سپیکر قومی اسمبلی کا پارلیمانی وفد کے ہمراہ حالیہ دورہ کینیڈا سے متعلق بدنیتی پر مبنی میڈیا مہم کا سخت نوٹس،سپیکرنے قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کو معاملے کی انکوائری کرنے کی ہدایت کردی،اسپیکرنے کہاکہ بدنیتی پر مبنی میڈیا مہم کی انکوائری کر کے ملوث عناصر کو بے نقاب کیا جائے، غیر ضروری اور سیاسی پروپیگنڈے سے ملکی تشخص کو نقصان پہنچا ہے، دورہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات کے بارے میں بین الاقوامی برادری کو آگاہ کرنے کی نیت سے کیا، وفد نے کامیابی کے ساتھ پاکستان کا مقدمہ بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش کیا،کانفرنس میں شریک دوسرے ممالک کے پارلیمانوں کے وفود اور عوامی سطح پر اس کا مثبت جواب ملا، کچھ عناصر نے پارلیمنٹ کی اس سفارتی کوشش کو ناکام بنانے کی کوشش کی،ان عناصر کی جانب سے تنگ نظری مظاہرہ کیا گیا اور غیر تصدیق شدہ معلومات کو پھیلایا گیا،منفی پروپیگنڈے اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے پارلیمانی سفارتکاری کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی،سپیکر نے 25 رکنی وفد کے ساتھ سی پی سی میں شرکت کی حقائق کے منافی ہے،سی پی سی رولز کے مطابق کانفرنس میں پاکستان کا صرف 5 رکنی وفد شرکت کرسکتا تھا، ان 5 میں سے 2 کو سینیٹ نے نامزد کیا تھا، قومی اسمبلی کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی سمیت صرف 3 اراکین کو نامزد کیا گیا تھا، ان تین ارکان میں سے نفیسہ شاہ نے اپنے حلقے میں سیلاب کی وجہ سے کانفرنس میں شرکت سے معذرت کرلی، قومی اسمبلی کی جانب سے سی پی سی کانفرنس میں اسپیکر قومی اسمبلی اور رومینہ خورشید عالم نے شرکت کی،دو معزز پارلیمنٹرینز کے علاؤہ سیکرٹری قومی اسمبلی نے کانفرنس میں شرکت کی، سیکرٹری قومی اسمبلی سوسائٹی آف کلرک اور سیکرٹریز آف پارلیمنٹ کی میٹینگ کے لیے وفد کے ہمراہ گئے، ایڈیشنل سیکرٹری قومی اسمبلی برائے خصوصی اقدامات کو بحیثیت ریجنل سیکرٹری کامن ویلتھ مدعو کیا تھا۔ایڈیشنل سیکرٹری برائے خصوصی اقدامات نے مسلسل 3 سال تک کامیابی سے کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن کے ایشیا ریجن کی میزبانی کی، وفد کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے ایڈیشنل سیکرٹری برائے خصوصی اقدامات نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ وفد کی بھی اعانت کی، وفد پر قومی خزانے سے 1.6 ملین امریکی ڈالر خرچ کرنے کا بھی الزام لگایا گیا۔ 1.6 ملین ڈالر خرچ کرنے کا الزام بے بنیاد اور حقیقت کے برعکس ہے، وفد کے اصل اخراجات انتہائی معمولی ہیں اور اعشاریوں میں ہیں، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے فوری طور پر اس معاملے پر ایک جامع بیان جاری کرکے اس کی وضاحت کردی تھی، تاہم میڈیا کے کچھ حلقے اس وضاحت کے باوجود اپنے مذموم مقاصد کے لیے غلط معلومات کا پرچار کرتے رہے، ریاست اس طرح کی ریاست مخالف سرگرمیاں اور ملک کے اعلیٰ ترین ادارے کے تقدس کو برقرار کے خلاف کارروائی کی ضمانت دیتی ہے،
سپیکر قومی اسمبلی کا پارلیمانی وفد کے ہمراہ حالیہ دورہ کینیڈا سے متعلق بدنیتی پر مبنی میڈیا مہم کا سخت نوٹس








