بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عمران خان نے مناسب وضاحت دیدی، میں مطمئن ہوں، صدر علوی

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ عمران خان نے مناسب وضاحت دیدی.

دراصل ہم سب الفاظ کے چناؤ میں ایکسپرٹس نہیں ہیں مگر انہوں نے وضاحت کردی اور میں مطمئین ہوں،کالا باغ ڈیم سیاست زدہ ہوا، کیوں؟ بھروسہ نہیں ہے، ساری صوبائی اسمبلیوں نے اس کے خلاف قراردادیں پاس کی ہوئی ہیں.

اسٹوریجز بننی چاہئیں اسٹوریج ڈیمز پر اتفاق رائے پیدا کرلیا جائے،شہباز شریف سے اچھے تعلقات ہیں، کوئی نہیں کہہ سکتا کہ خراب تعلقات ہیں، اچھے تعلقات ہیں، ہو نہیں سکتا کہ پاکستان کے صدر اور وزیراعظم کے تعلقا ت خراب ہوں، اپنی لڑائیوں کی وجہ سے فوج کوموقع دیا جاتا ہے کہ فوج مداخلت کرے، آپ کو معلوم ہے ایوب خان کے زمانے میں لوگ کہتے ہیں کہ ایک چیز میں کامیابی ہوئی وہ یہ کہ پالیسیوں کے تسلسل میں کامیابی ہوئی،میں سمجھتا ہوں کہ اگر غیرملکی مداخلت کے الزامات ہیں تو میں نے تو آن پیپر چیف جسٹس سے درخواست کی ہوئی تھی کہ اس کی تحقیقات ضروری ہے۔

صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ دنیا میں جہاں بھی ایسی کیفیت ہوتی ہے، چاہے امریکا میں سیلاب آئے تو لوگ تجزیہ کرتے ہیں کس طرح اسے بہتر کیا جاسکتا ہے.

سیلاب یا آفتوں کیلئے مسلسل تیاری کی کیفیت نہیں ہوتی لیکن کوشش کی جاتی ہے کہ اس کے نقصانات روکنے کیلئے کام کیا جائے، آپ نے دیکھا ہوگا کہ کالام میں ایک ہوٹل بہہ گیا، وہ دنیا کی خبروں کی زینت اس لیے بنا کہ سیلاب کی وجہ سے ایسی کیفیت پیدا ہوئی کہ پورے پورے ہوٹل بہہ گئے، مگر وہاں ایک خامی پوائنٹ آؤٹ ہوئی کہ اسے اتنے قریب نہیں بننا چاہئے تھا.

سیلاب دنیا بھر میں جب آپ برج بناتے ہیں تو پورے دریا کے expense پر نہیں بناتے، آپ دریا کو ٹرینڈ کرتے ہوئے چھوٹا برج بناتے ہیں،صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ہورہی ہے، کہا جاتا تھا کہ پاکستان اور temprate climate ہے یہاں پر زیادہ اثر ہوگا اور یہاں پر droughts ہوں گے اور خشک سالی ہوگی، مگر کیفیت یہ ہے کہ یہاں پر بارشیں بھی زیادہ ہیں ، تو یہ ایک unpredictability ماحولیاتی تبدیلی کی بھی ہے.

تیسری بات یہ کہ سیلاب کے نتیجے میں پانی کا جو بہاؤ ہے اگر اسے کہیں کہیں اسٹور کرلیا جائے تو امکان ہے کہ اس کے خطرات کم ہوں گے، جیسے میں نوشہرہ کے اوپر سے گزرا، میں سیلاب کے دنوں میں.

، بارشوں کے دنوں میں تو نہیں نکلا، اس وجہ سے نہیں نکلا کہ بجائے اس کے کہ میں ریسورسز کو پکڑلوں جن ریسورسز کی ضرورت ہے جان بچانے میں تو میں اس کے بعد نکلا، پہلا کرائسز ہوتا ہے جان بچانا، اس کے اندر let me this credit کہ ہمارے جو فوجی ہیں یہ ہمیشہ ہراول دستہ بنتے ہیں، ہماری ایئرفورس اور نیوی بھی سندھ کے اندر آئی اور آرمی بھی.

یہ ہراول دستہ بنتے ہیں اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر لوگوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں اس کے باوجود جانوں کا نقصان تو ہوا، اس کا continues prevention نہیں ہوتا مگر کچھ چیزوں میں انسان سیکھ لیتا ہے، آپ کو یاد ہوگا کہ چار پانچ سال پہلے بڑی سخت گرمی کراچی میں ہوئی، ایک ہزار کے قریب لوگ ہیٹ اسٹروک سے مرگئے، اس کے بعد بھی گرمی تو ہوئی مگر لوگوں نے سیکھ لیا کہ سروں کو کور کرو اور اپنے آپ کو ہائیڈریٹڈ رکھو، پاکستان میں واٹر اسٹوریجز کی قلت ہے.

151ملین ایکڑ فٹ پانی پاکستان میں برستا ہے یا برف پگھلتی ہے اور 100ملین ایکڑ فٹ کے مقابلہ میں چند ملین ایکڑ فٹ ہم اسٹور کرتے ہیں باقی بہتا بھی ہے زمین میں بھی جاتا ہے، بحث یہ رہتی ہے کہ دریائے سندھ کا کتنا پانی سمندر میں جانا چاہئے اور کتنا نہیں جانا چاہئے، اس میں مختلف اندازے ہیں مگر آن ایوریج لوگ کہتے ہیں کہ آٹھ سے نو ملین ایکڑ فٹ پانی ضرور سمندر میں جانا چاہئے ورنہ انوائرمنٹ خراب ہوجاتی ہے اور بدین میں سمندری پانی اوپر چڑھنے لگتا ہے اگر یہ پانی نہ جائے۔

اس سیلاب سے مزید یہ بات آئی کہ اسٹوریج اور ڈیمز بننے چاہئیں، مگر اگلا قدم یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم سیاست زدہ ہوا، کیوں؟ بھروسہ نہیں ہے، ساری صوبائی اسمبلیوں نے اس کے خلاف قراردادیں پاس کی ہوئی ہیں، اسٹوریجز بننی چاہئیں اسٹوریج ڈیمز پر اتفاق رائے پیدا کرلیا جائے، ٹیلی میٹری کرلی جائے تاکہ یہ جو جھوٹ کا پلندہ ہے کہ کس زمانے میں پانی ریلیز ہوا، کب نہیں ہوا، کتنا ریلیز ہوا، اس کو ٹیلی میٹری سے ہینڈل کریں، confidence building measures کے ساتھ جتنے ڈیمز بنیں۔ میں سمجھتا ہوں سب لوگ ایکٹو ہوئے، سیاسی جماعتیں بھی ایکٹو ہوئیں، آپ کے سارے ادارے ایکٹو ہوئے، ایسے ادارے جنہوں نے کووڈ میں بڑا کام کر کے دکھایا، این ڈی ایم اے مثال کے طور پر پی ڈی ایم اے انہوں نے ایکٹیویٹی دکھائی، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایکٹیویٹی تو اچھی رہی مگر ایک کسر ہے، جہاں سے پانی آیا این ڈبلیو ایف پی میں مثال کے طور پر تو وہ ریلہ اب گزر گیا، وہاں damage جو ہوا وہ immediate جو پریشر تھا پانی کا اس سے ہوا، جہاں پانی رک گیا ہے وہ flat land میں رک گیا ہے، بلوچستان میں نصیر آباد یا لاڑکانہ، جیکب آباد، سکھر ، دادو، بدین، منچھر جھیل والا معاملہ، وہاں پانی رک گیا اس سے نقصانات ہوئے، اگلا فیز ری بلڈنگ کا ہوگا ، اسٹرکچرل جو نقصانات ہوئے ان کو بنانا اور prevention کا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے حوالے سے بین الاقوامی امداد بھی آئی ہے، ہم نے اپنے ریسورسز بھی ٹائٹ کیے ہیں مگر پاکستان پر میں اللہ سے گزارش کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ یہ پریشرز کم ہوں کیونکہ معیشت کا پریشر ہے، چینج آف گورنمنٹ کا پریشر ظاہر ہے اپنی جگہ پر ہوتا ہی ہے چاہے کوئی بھی گورنمنٹ ہو، تیسرا یوکرین کی جنگ کے حوالے سے لاجسٹکس، گندم وغیرہ کا پریشر ہے، ہمارے ملک کے اندر یہ sustainability کم ہوتی ہے کہ ہماری جیب میں اتنی رقم نہیں ہے کہ ہم ان پریشرز کو برداشت کرجائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جمہوریت کے اندر policitize سے آپ کاکیا مطلب؟۔ حامدمیر: مطلب اس پر سیاسی بیان بازی کرنی چاہئے؟ صدر مملکت عارف علوی: جو تعمیری بات چیت ہو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، آپ جانتے ہیں کہ Appointment of Judges کے اندر کبھی کبھی conflcit آجاتا ہے، آپ نے پچھلے دنوں دیکھا ، اس معاملہ کو جتنا مشاورت کے ساتھ طے کرلیا جائے تو زیادہ اچھا ہے ورنہ آرمی چیف کی تقرری کے اعتبار سے پاکستان کو ایک سیٹ بیک مشرف صاحب کے زمانے میں ہوا، پورا آئین لپٹ گیا only on the appointment of the Army Chief لہٰذا میں سمجھتا ہوں اس پر سلجھے ہوئے انداز سے گفتگو ہو تو کوئی حرج نہیں ہے، آج کل پاکستان میں یہ ہے کہ میں جو بھی بات کہتا ہوں اس میں کوئی نہ کوئی خامی تلاش کر کے میرے بھی پیچھے پڑجاتے ہیں، conflict کی تلاش پاکستان کی ریاست کو اب کوشش کرنی چاہئے کہ conflict کم ہو، اب میری آپ کے ساتھ گفتگو میں بھی کوشش ہوگی کہ conflict کم ہو۔ حامدمیر: میں نے یہ سوال اس لیے کیا کہ پچھلے دنوں عمران خان نے ایک اسٹیٹمنٹ دیا، اس پر آئی ایس پی آر کا ردعمل بھی آیا جو کافی strong reaction تھا، آپ کو عمران خان کے اس اسٹیٹمنٹ پر حیرت نہیں ہوئی؟ صدر مملکت عارف علوی: میں سمجھتا ہوں کہ عمران صاحب نے اس کی مناسب وضاحت دیدی، دراصل ہم سب الفاظ کے چناؤ میں ایکسپرٹس نہیں ہیں مگر انہوں نے وضاحت کردی اور I am satisfied میں سمجھتا ہوں وہی میری خواہش ہوتی ہے کہ جب وضاحت ہوگئی، مثال کے طورپر عمران خان صاحب کا contempt کا بھی ایشو چل رہا ہے۔ حامدمیر: ایک خاتون جج کے بارے میں جو انہوں نے گفتگو کی؟ صدر مملکت عارف علوی: ہاں، جو بھی وہاں پر وہ بیان دیں گے تو میں سمجھتا ہوں سچے دل سے جو بھی کیفیت ہے اس کو بیان کردینا چاہئے۔ حامدمیر: انہوں نے معذرت کیا ہے، آپ کے خیال میں غیرمشروط معافی مانگنا زیادہ بہتر نہیں ہے؟ صدر مملکت عارف علوی: آج مجھے نہیں معلوم کہ کیا کیفیت ہے آج کورٹ میں کیس لگا ہوا ہے۔ حامدمیر: آپ کے وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ کیسے تعلقات ہیں؟ صدر مملکت عارف علوی: اچھے تعلقات ہیں، کوئی نہیں کہہ سکتا کہ خراب تعلقات ہیں، اچھے تعلقات ہیں، ہو نہیں سکتا کہ پاکستان کے صدر اور وزیراعظم کے تعلقا ت خراب ہوں، difference of opinion ہوسکتا ہے، difference of opinion ان چیزوں پر میرا ان کے ساتھ ہوا، اب تو میں سمجھتا ہوں جتنی وہاں سے summries & advices آئی ہیں ان کی گنتی رکھنے کی کوشش کرتا ہوں تقریباً 90یا 95کے قریب آئی ہوں گی، میں نے تین چار روکی تھی اس کی میں نے وضاحت بھی کردی تھی کہ کیوں روکی تھیں، اس میں ای وی ایم تھا، اوورسیز پاکستانیوں کی ووٹنگ تھی، جو conflict آپ کو اس وقت نظر آرہا ہے جو پنجاب میں نظر آیا اس کے حوالے سے میں بھی واقف تھا وہاں پر میں نے ان کی ایک دو ایڈوائس کو روکا تھا، مگر out of 90, 85 پر ہمارا clarity ہے تو بڑے اچھے تعلقات ہیں۔

حامدمیر: آپ کی ان سے ملاقات وغیرہ بھی ہوتی ہے؟ صدر مملکت عارف علوی: جی، ملاقات بھی ہوئی ہے۔ حامدمیر: پتا نہیں چلتاہمیں؟ صدر مملکت عارف علوی: نہیں، کوئی خفیہ ملاقات نہیں ہوئی، میں سمجھتا ہوں جب oath taking پر مختلف وزراء کی آئے تب ان سے ملاقا تہوئی، اس کے علاوہ بھی وہ تشریف لائے تھے جب پی ایم منتخب ہوئے تھے تو انہوں نے courtesy call بھی تب کی تھی۔

حامدمیر: ہر چیز کا ایک منفی پہلو ہوتا ہے، ایک مثبت پہلو بھی ہوتا ہے، آپ کو اس میں کوئی مثبت پہلو نظر آتا ہے کہ آپ صدر پاکستان ہیں، آپ کا ماضی میں تعلق پی ٹی آئی سے رہا ہے، شہباز شریف وزیراعظم ہیں ان کا تعلق پی ایم ایل این کے ساتھ ہے، پنجاب میں، کے پی اور پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت ہے، سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، بلوچستان میں بہت سی پارٹیاں ہیں.

بلوچ قوم پرست ہیں، اس میں مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں، ایک طرح سے تمام main political parties کسی نہ کسی طرح مرکز اور صوبوں میں پارٹنر ہیں، یہ ایک مثبت چیز بھی ہے لیکن اس کے نتائج منفی کیوں نظر آرہے ہیں؟ صدر مملکت عارف علوی: اسمبلی میں سب ہی جماعتیں ہوتی ہیں، اگر آپ کہیں کہ اس فورم میں سب ہی لوگ ہیں، اسی طرح سے ملک کے اندر ووٹروں نے مختلف رائے کے اعتبار سے کیا، میں سمجھتا ہوں کہ جمہوریت کے اندر اس بات کا امکان رہتا ہے کہ conflict آئے لیکن as long as وہ آئین کے دائرہ کار میں رہے تو جمہوریت کو نقصان اتنا نہیں ہوتا، نقصان کہاں ہوتا ہے؟

معیشت کے اعتبار سے نقصان ہونے کا امکان رہتا ہے کہ پالیسیوں کا تسلسل ہو، اگر یہ کیفیت نظر آئے کہ جو کام کسی پچھلی حکومت نے کیا سارے کا سارا undo کر کے redo کیا جائے تو اس میں بڑا نقصان ہوتا ہے، میں نے نیب کا بل کیوں روکا؟ یا اوورسیز پاکستانیوں کا معاملہ کیوں روکا؟