پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں کوئی کھچڑی پک رہی ہے کسی کو پتہ نہیں کیا خبر آنے والی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما نے ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مائنس ون کے فارمولے پاکستان میں کبھی نہیں چلے، یہ فارمولا نواز شریف پر بھی لاگو کیا گیا لیکن شہباز شریف ن لیگ کے صدر ہونے کے باوجود لندن اس لیے جاتے ہیں کہ یہ مائنس نہیں ہوسکتا ہے، آپ نے پنجاب میں پی ٹی آئی کو مائنس کیا عوام نے پھر سے پلس کر دیا، مائنس اور پلس کرنے کا اختیار صرف اور صرف عوام کے پاس ہے۔
شاہ محمود کا کہنا تھا کہ آج ملک میں عمران خان سے زیادہ مقبول لیڈر کوئی نہیں، وہ فوج کی افادیت اور اہمیت کو سمجھتے ہیں، انہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان کی تعریف کی اور ہمیشہ کہا کہ پروفیشنل آرمی پاکستان کی ضرورت ہے، عمران خان نے کئی بار نجی گفتگو میں یہ تک کہا کہ اگر ہماری فوج مضبوط نہ ہوتی تو ہمارا حال عراق جیسا ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری فوج ایک پروسیجر، رولز اور ریگولیشن کے تحت چلتی ہے، ادارے میں تقرری اور تعیناتی کا ایک پروفیشنل طریقہ ہوتا ہے، عمران خان نے اپنے دور میں نیول چیف اور ایئر چیف کو تعینات کیا کسی نےانگلی نہیں اٹھائی۔
شاہ محمود نے کہا کہ عمران خان کا اتنا واضح مؤقف آنے کے باوجود سب کچھ ہوا، وہ بہت سی باتیں کہنا چاہتے تھے مگر وقت نہ دیا گیا، لیکن ایک دن وقت آئے گا اور سب کچھ بتایا جائے گا، عمران خان سے ون آن ون ملاقات اور کھل کر بات کرنے کا موقع نہیں ملا، میں اسلام آباد جا رہا ہوں وہاں ان سے ملاقات کروں گا۔
سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ رجیم چینج کے بعد ہم نے عوام سے رجوع کرنا شروع کیا تو عوام نے عمران خان کو پذیرائی دی، عمران خان نے قوم کو جگانے میں جو کردار ادا کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، تحریک انصاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر شفاف الیکشن کرائے جائیں اور ملک کے مسائل کا حل بھی اسی میں پوشیدہ ہے، الیکشن جب بھی ہوگا لوگ بلے پر ہی مہر لگائیں گے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ یہ تو کہتے تھے کہ ہم نے آئی ایم ایف کیساتھ ملک کا سودا کر دیا، میں پوچھتا ہوں آئی ایم ایف کیساتھ آپ نے کیا کیا ہے؟ اس معاہدے کی ابھی تو ایک جھلک نظر آئی ہے ابھی تو کئی شقیں باقی ہیں۔
سابق وزیر خارجہ نے بلاول بھٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بچہ ہے اور اس وقت وزارت خارجہ میں انٹرن شپ پروگرام کر رہا ہے، جب سے وہ وزیر خارجہ بنا ہے کتنے دن اپنے دفتر میں بیٹھا ہے؟ کتنی میٹنگز کی ہیں؟ زیادہ تر ملک سے باہر ہی رہا ہے، فائل وہ نہیں پڑھتے، میٹنگ میں وہ نہیں بیٹھتے، دفتر وہ نہیں جاتے، جب وہ فارن آفس جاتے ہیں تو پورا تھرڈ فلور سیل کر دیا جاتا ہے۔









