اسلام آباد(ممتاز نیوز)تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب میری حکومت کے دوران سینیٹر عرفان صدیقی کو گھر سے اُٹھا کر ہتھکڑیاں لگائی گئیں تو مجھے ہرگز اس کا علم نہیں تھا۔ مجھے یہ دوسرے روز پتہ چلا کہ ممتاز دانشور عرفان صدیقی کو گھر سے اُٹھا لیا گیا ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ پیشی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اُن سے پوچھا گیا تھا کہ کیا آج آپ کو احساس ہے کہ عرفان صدیقی کےساتھ جو کُچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ عمران خان نے کہا کہ مجھے تو ایک دن بعد میڈیا کے ذریعے عرفان صدیقی کی گرفتاری کا علم ہوا۔ اس معاملے کی باقاعدہ تفتیش ہونی چاہیئے بلکہ ایک کمیشن بننا چاہیے جو اصل حقائق اور اس واقعے کے زمہ داروں کو سامنے لائے۔ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران یہ بھی کہا کہ ایک اور صحافی مطیع اللہ جان کو جب اغواء کیا گیا تو اس وقت بھی مجھے وقوعہ کے بعد علم ہوا۔ یہ سب غلط ہے۔ اگر کسی نے کوئی جُرم کیا ہے تو آئین اور قانون کے مطابق کاروائی ہونی چاہیے۔ سابق وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اُن کے دورِحکومت میں ہونے والی بہت سی چیزوں کا علم ہی نہیں ہوتا تھا، جب وہ ہو جاتی تھیں تو الزام حکومت پر آتا تھا اور بدنامی ہماری ہوتی تھی۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
عرفان صدیقی کی گرفتاری اورمطیع اللہ جان کااغواء،میری حکومت کے دوران کئی باتیں ایسی ہوتی رہیں جن کا ہمیں علم ہی نہیں ہوتا تھا،عمران خان








