کراچی (نیوزڈیسک) صوبہ سندھ کے ایک علاقے میں مقامی بااثر شخصیت کے تشدد سے ہلاک ہونے والے شہری ناظم جوکھیو کی والدہ نے عدالت سے انصاف سے اپیل کردی۔
کراچی ملیر کورٹ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج ماڈل عدالت کے روبرو ناظم جوکھیو قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت ناظم جوکھیو کی والدہ بھی عدالت پہنچ گئیں۔
خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ مجھ سے صلح نامہ اور سمجھوتے والے کاغذات پر زبردستی انگھوٹے لگوائے گئے، مجھے انصاف فراہم کیا جائے، والدہ ناظم جوکھیو نے جج کے روبرو اپنے بیان میں کہا کہ مجھ سے صلح نامہ اور سمجھوتہ پیپر پر زبردستی انگھوٹے لگوائے گئے ہیں۔
عدالت نے خاتون سے کہا کہ آپ نے جو کہنا ہے اپنے وکیل کے ہمراہ کٹہرے میں آئیں، والدہ ناظم جوکھیو نے کہا کہ مظہرجونیجو ایڈووکیٹ میرا وکیل ہے۔
جام اویس گہرام کے عدالت میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے ان پر چارج فریم نہ ہوسکا۔ عدالت نے جام اویس گہرام کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔
ملزمان کے وکیل نے بتایا کہ جام اویس اسپتال میں ہے لہٰذا پیش نہیں ہوسکتے جبکہ مدعی افضل جوکھیو، بیوہ زوجہ شیرین، ان کی والدہ کی ملزمان سے مصالحت ہوگئی ہے۔
ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ خون معاف کرکے ملزمان کوباعزت بری کرکے کیس ختم کیا جائے، بعد ازاں عدالت نے ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کیلئےتاریخ24ستمبر مقرر کردی۔
واضح رہے کہ اس مقدمے میں پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی جام اویس گہرام اور رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم سمیت نصف درجن کے قریب ملزمان نامزد ہیں، جن میں سے جام گہرام گرفتار ہیں۔
گزشتہ برس نومبر میں سندھ کے رہائشی ناظم جوکھیو نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں وہ ملیر میمن گوٹھ میں کچھ غیر ملکیوں کو شکار کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ناظم جوکھیو کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی تھی۔
ناظم جوکھیو کے لواحقین نے اس مبینہ قتل کے الزام میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی جام اویس گہرام اور رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم سمیت 22 ملزمان کو نامزد کیا تھا، جن میں سے بیشتر افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ کچھ ملزمان اب ضمانت پر ہیں۔
ناظم جوکھیو قتل کیس نیا رخ اختیار کر گیا








