بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

  وزیراعلیٰ پنجاب الیکشن کیس کا فیصلہ میرٹ پر ہوا، ردعمل ججز تقرری بارے اجلاس میں سامنے آیا، چیف جسٹس عمرعطا بندیال

اسلام آباد(ممتازنیوز)چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے مقدمے کا فیصلہ میرٹ پر ہوا، اس مقدمے کے فیصلے کا ردعمل ججز تقرری کیلئے منعقدہ اجلاس میں سامنے آیا، سپریم کورٹ آئین کا ہر تناظر میں تحفظ کرنے کے لئے پرعزم ہے
نئے عدالتی سال کے موقع پرتقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ چارج سنبھالتے ہوئے سستا اور فوری فراہمی انصاف زیر التوا مقدمات اور ازخود نوٹس کے اختیارات کا استعمال جیسے چیلنجز درپیش تھے۔ خوشی ہے کہ زیر التواء مقدمات کی تعداد 54134 سے کم ہو کر 50265 تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف جون سے ستمبر تک 6458 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔ زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی نے گزشتہ دس سالہ اضافے کے رحجان کو ختم کیا۔ معززجج صاحبان نے اپنی چھٹیوں کو قربان کیا۔ آئندہ 6ماہ میں مقدمات کی تعداد 45 ہزار تک لے آئیں گے۔
انھوں نے خطاب میں کہا کہ فراہمی انصاف کے متبادل نظام سے یقین ہے کہ زیرالتوا مقدمات میں 45 فیصد تک کمی آئے گی۔ ججز تقرریوں کے سلسلے میں بارکی معاونت درکارہے۔ آبادی میں اضافہ سے متعلق کیس کو جلد سنا جائے گا۔ آبادی میں اضافے سے وسائل پربوجھ پڑتا ہے۔ پالیسی معاملات میں عمومی طورپرمداخلت نہیں کرتے۔
چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ لوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے ایسے مقامات بھی سننے پڑتے ہیں۔ مارچ 2022 سے ہونے والے سیاسی ایونٹس کی وجہ سے سیاسی مقدمات نئے عدالتوں میں آئے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ پر ججز کی مشاورت سے ازخود نوٹس لیا۔ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف پانچ دن سماعت کرکے رولنگ کو غیر آئینی قراردیا۔
انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کا فیصلہ بھی تین دن میں سنایا۔ دوست مزاری کی رولنگ کو کالعدم قراردینے پرسیاسی جماعتوں نے سخت ردعمل دیا۔ سیاسی جماعتوں کے سخت رد عمل کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا گیا۔ آگاہ ہیں ملک کو سیریس معاشی بحران کا سامنا ہے۔ ملک میں اس وقت بدترین سیلاب کا بھی سامنا ہے۔ سیلاب متاثرین کیلئے ججزنے 3 دن اور عدالتی ملازمین نے دو دن کی تنخواہ عطیہ کی ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے مقدمے کا فیصلہ میرٹ پر ہوا۔ اس مقدمے میں وفاق نے فل کورٹ بنانے کی استدعا کی جو قانون کے مطابق نہیں تھی۔ اس مقدمے میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا کردار بھی جانبدارانہ رہا۔ اس مقدمے کے فیصلے کا ردعمل ججز تقرری کیلئے منعقدہ اجلاس میں سامنے آیا۔
نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس آف پاکستان عمرعطا بندیال نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں پانچ اہم اور قابل ججز کو نامزد کیا گیا تھا۔ وفاق کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے مقدمے کے فیصلے کا جوڈیشل کمیشن اجلاس کا ردعمل عدلیہ کیلئے احترام کے زمرے میں آتا ہے۔
چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ سپریم کورٹ آئین کا ہر تناظر میں تحفظ کرنے کے لئے پرعزم ہے، سپریم کورٹ ،عدلیہ ،پارلیمان، قانون ساز اسمبلیوں ،افواج پاکستان، الیکشن کمیشن کا بھرپورآئین تحفظ کرنے کےلئے پرعزم ہیں،آڈیٹرجنرل اور سروسزآف پاکستان کا بھی تحفظ یقینی بنایاجائے گا۔