بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

انسانی خون پینے کا الزام، ہولی فیملی کی نوجوان لیڈی ڈاکٹر بدستورصدمے سے دوچار

 راولپنڈی(وقار حسین کاظمی) ہولی فیملی میں ہاؤس جاب کے دوران مریضوں کا خون پینے کے بے بنیاد الزام میں ٹریننگ چھوڑ کر گھر بیٹھ جانے والی لیڈی ڈاکٹر ”ٹراما“ سے باہر نہ آسکی، ایک طرف ہسپتال سمیت ملک بھر میں مذکورہ لیڈی ڈاکٹر کے حوالے سے بحث جاری ہے تو دوسری طرف یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ مذکورہ لیڈی ڈاکٹر پر لگائے جانے والا سنگین الزام بے بنیاد تھے، ہسپتال انتظامیہ بھی اس ضمن میں لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ کھڑی ہوگئی ہے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے بھی ہسپتال انتظامیہ کو پیغام بھجوایاکہ مذکورہ لیڈی ڈاکٹر کے حوالے سے اس بات کو یقینی بنایاجائے کہ اس کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے ہسپتال انتظامیہ سے رابطہ کیاگیا اور ایم ایس ڈاکٹر شازیہ سے اس ضمن میں بے گناہ لیڈی ڈاکٹر کا ہر ممکن ساتھ دینے کو کہاگیا۔وزیراعلیٰ کا پیغام پہنچانے والے افسر نے بتایاکہ وزیراعلیٰ سوشال میڈیا پر چلنے والی اس خبر کے بعد اصل حقائق سامنے آنے پر انتہائی پریشان اور دکھ کی کیفیت میں ہےں اور ان کا کہناہے کہ مذکورہ لیڈی ڈاکٹر کا مستقبل کسی صورت تاریک نہ ہونے دیاجائے۔
ذرائع کے مطابق لیڈی ڈاکٹر اپنی ٹریننگ تقریباً مکمل کرچکی تھی، صرف پندرہ روز باقی تھے کہ وارڈ میں موجود کسی مریض کے رشتہ دار سے ان کی ہلکی پھلکی لڑائی ہوئی اور اس کے اگلے روز لیڈی ڈاکٹر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر خبر چلائی گئی کہ ہولی فیملی ہسپتال میں موجود ایک لیڈی ڈاکٹر انسانی خون پیتی ہے اور اسے ڈریکولا کے نام سے منسوب کیاگیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبر کے بعد لیڈی ڈاکٹر بغیر کسی کو کچھ بتائے گھر میں بیٹھ گئی۔ ہسپتال انتظامیہ نے اس ضمن میں انکوائری کمیٹی قائم کردی جس کے مطابق لیڈی ڈاکٹر یسریٰ کے حوالے سے چلنے والی خبر بے بنیاد ہے اور اس ضمن میں انتظامیہ کو کسی قسم کے کوئی شوائد نہیں ملے۔ ہسپتال میں موجود سی سی ٹی وی میں بھی ایسی کوئی فوٹیج نہیں جس سے الزام کی تصدیق ہوسکے اور نہ ہی کسی نے اس حوالے سے کوئی تحریری درخواست دی ۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر یسریٰ اور اسکی فیملی خبر کے وائرل ہونے سے ابھی تک ٹراما(صدمے کی حالت میں ہے۔اس ضمن میں ہسپتال کی ایم ایس ڈاکٹر شازیہ زیب نے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ ڈاکٹر یسر یٰ ہسپتال میں ہاؤ س جاب کررہی تھی اور اس کی ٹریننگ تقریباً مکمل ہوچکی تھی ہم نے اسے ٹریٹمنٹ نہیں کیاکیونکہ ہمارے پاس نہ تو کوئی شکایت تھی اور نہ ہی الزام کے کوئی شواہد ملے تاہم وہ چار پانچ دن غیرحاضر رہی ہیں ۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر شازیہ نے بتایاکہ ہم قانون اور قوائد ضوابط کے تحت ڈاکٹر یسریٰ کو ٹریٹ کررہے ہیں انہوں نے جو ٹریننگ کی ہم اسکا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے پابند ہیں تاہم اب یہ انکا فیصلہ ہوگا کہ وہ مستقبل میں کیاکرنا چاہتی ہیں ؟ہماری طرف سے کسی قسم کی کوئی زیادتی نہیں ہوگی تاہم سوشل میڈیا پر چلنے والے فیک نیوز سے تمام ڈاکٹرز برادری غمزدہ ہے ۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر شازیہ زیب کا کہناتھاکہ میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا کو کسی بھی انسان کی زندگی اور اسکے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جس کسی نے بھی اس خبر کو وائرل کیا متعلقہ ادارے اس کی تحقیق کرکے متاثرہ فیملی کو انصاف فراہم کرے اور جہاں تک ہسپتال انتظامیہ کا تعلق ہے تو ہم متاثرہ فیملی کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ ہمارے پاس لیڈی ڈاکٹر پر لگائے جانے والے الزام کو کوئی ثبوت نہیں اور نہ ہی ہماری عقل اس بات کو تسلیم کررہی ہے۔