اسلام آباد(ممتازنیوز)پاکستان کو چین سے مزید چار جے 10 سی لڑاکا طیارے مل گئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاک فضائیہ کے لئے 30اگست کو چار جے 10 سی لڑاکا طیاروں پر مشتمل کھیپ پاکستان کے ایک ہوائی اڈے پر اتری۔ اس سے پہلے رواں سال کے اوائل میں چھ جے 10سی طیارے فراہم کئے گئے تھے، مجموعی طور پر اب تک دس طیارے مل چکے ہیں جب کا آرڈر36طیاروں کا دیا گیا تھا۔
رواں سال مارچ میں جے 10 سی طیاروں کی پاک فضائیہ کے بیڑے میں شمولیت کی تقریب نہایت سادہ اور پُروقار انداز میں منعقد کی گئی تھی ۔
واضح رہے کہ جے 10 سی طیاروں کو چین کے شہر چینگڈو (Chengdu) میں قائم ایوی ایشن حب میں تیار کیا گیا ۔ اس کمپنی کو چینگڈو ایئر کرافٹ انڈسٹری گروپ یا چینگڈو ایئرو اسپیس کارپوریشن کے طور پر جانا جاتا ہے۔
1958ء میں قائم ہونے والے اس ادارے میں لڑاکا اور دیگر طیاروں کے پرزہ جات بنائے جاتے ہیں۔ اس کمپنی میں 2 ہزار سے زائد ایوی ایشن ماہرین کام کرتے ہیں جو لڑاکا طیاروں کے ڈیزائن سے لے کر اس کو اڑانے تک کے تمام مراحل پر مہارت رکھتے ہیں۔ جے 10 کے علاوہ چینگڈو جے 5، جے 7، جے 9، جے ایف 17 اور جے 20 لڑاکا طیارے بنانے کے علاوہ بزنس جیٹ سی بی جے 800، بغیر پائلٹ کے طیارے اور مختلف طیاروں کے انجن اور پرزہ جات بناتا ہے۔ جے 10 سی چین میں تیار ہونے والا پہلا لڑاکا طیارہ ہے جس کو مغربی لڑاکا طیاروں کا ہم پلہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس طیارے کو چین میں Meng Long اور Vigorous Dragon کے ناموں سے جانا جاتا ہے۔ جبکہ مغرب خصوصاً نیٹو ممالک نے اس کو Firebird کا نام دیا ہے۔ جے 10 کا منصوبہ چین نے 1988ء میں شروع کیا اور 1998ء میں جے 10 کا پہلا پروٹو ٹائپ طیارہ تیار کیا۔ اس پورے منصوبے کو انتہائی خفیہ رکھا گیا۔ اس طیارے کے کئی ٹیسٹ کرنے کے بعد 2004ء میں چین کی فضائیہ کا حصہ بنایا گیا اور سال 2006ء میں اس طیارے کی عوامی سطح پر نمائش کی گئی۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) ایئر فورس اور نیوی کے پاس ایسے 240 طیارے آپریشنل ہیں جبکہ مزید 300 طیاروں کی طلب ہے۔
چین کے بعد پاکستان وہ پہلا ملک ہے جس نے جے 10 سی طیاروں کو اپنے لڑاکا فضائی بیڑے کا حصہ بنایا ہے۔ ایران، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ بھی یہ طیارے خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ طیارہ یورو اسٹار اور ایف 16 طیارے کے مساوی صلاحیتوں کا حامل 4.5 جنریشن ایئر کرافٹ ہے۔ اس طیارے میں بی وی آر (انسانی آنکھ کے دیکھنے کی صلاحیت سے باہر) ہدف کو نشانہ بنانے والے فضا سے فضا اور فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل فائر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ فضا سے فضا میں 200 کلو میٹر تک مار کرنے والے پی ایل 15 میزائل اور قریب مار کرنے والے پی ایل 8 میزائل، اس کے علاوہ زمین پر مار کرنے کے لیے جے 10 سی 500 کلو گرام سے زائد وزن کے لیزر گائیڈڈ بم، فری فال بم اور 90 ایم ایم راکٹ سے لیس ہے۔ طیارے میں ایک نالی کی 23 ملی میٹر کی مشین گن بھی نصب ہے۔
جے 10 سی فضا میں ایندھن بھرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ جے 10 سی میں جدید ریڈار نصب ہیں جو بیک وقت 10 اہداف کی نشاندہی کرنے اور 4 کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاکستان جے 10 سی کا پہلا خریدار بن گیا ہے۔ اس بات کا سب سے پہلے اظہار چینی سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر اس وقت کیا گیا جب جے 10 سی طیاروں کی تصاویر کو جاری کیا گیا۔ ان طیاروں کی دُم پر پاکستانی پرچم کو دیکھا جاسکتا تھا۔
جے 10 سی کو4. 5 جنریشن جیٹ فائٹر کا درجہ حاصل ہے۔ اس میں ایسا ریڈار نصب ہے جو گولڈ معیار کا ریڈار قرار دیا جاتا ہے۔ یہ موجودہ جنگی حالات میں دشمن کی واضح نشاندہی کے ساتھ ساتھ جمیرز کے خلاف زیادہ مزاحمت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جے 10 سی میں ایسا مواد استعمال ہوا ہے جو ریڈار پر مشکل سے نظر آتا ہے اور جے 10 سی کو ڈھونڈنے اور نشانہ بنانے کے امکانات کو تقریباً ختم کردیتا ہے۔
https://twitter.com/INTELPSF/status/1571406506716700674?t=SJ6BNOIP4DH93wXbnoSQtw









