اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق بیان دینے پر اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر پولیس رپورٹ پر درخواست گزار کے وکیل سے دلائل طلب کر لیے ۔پولیس کی جانب سے عدالت میں رپورٹ جمع کرا دی گئی ایس پی اقبال ٹاؤن کی طرف سے عدالت میں جواب جمع کروایا گیا۔پولیس رپورٹ کے مطابق دوران دریافت درخواست کے اپنے موقف کی تائید میں کوئی ٹھوس ثبوت یا شہادت پیش نہیں کر سکا ہے۔استدعاکی گئی ہے کہ لہذا درخواست عدم ثبوت کی روشنی میں داخل دفتر کی جائے۔درخواست گزار کی جانب سے چوہدری خالد رشید ایڈووکیٹ عدالت میں دلائل کے لیے پیش ہوئے۔درخواست میں ایس ایچ او سمن آباد اور سی سی پی او لاہور کو فریق بنایا گیا ہے ایڈیشنل سیشن جج غلام حسین بھنڈر نے کیس پر سماعت کیدرخواست گزار شیخ مظفر حسین کی جانب سے عمران خان کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کی گئی تھی۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان نے فیصل آباد کے جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہاکہ اگر مستقبل میں کوئی تگڑا محب وطن سپہ سالار آگیا تو وہ ان چوروں سے پوچھے گا۔عمران خان کا یہ بیان پاک ارمی کیخلاف ہےجس کا مطلب ہے کہ موجودہ آرمی چیف محب وطن نہیں ہے۔عمران خان کا یہ بیان ملک سے غداری اور فوج میں بغاوت کروانے کی کوشش ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت ایس ایچ او سمن آباد کو عمران خان کیخلاف ملک سے غداری اور فوج میں بغاوت کروانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔
آرمی چیف سے متعلق بیان ، عمران خان کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت








