اسلام آباد(ممتازنیوز) سابق وزیر اعظم اور سینئر رہنما مسلم لیگ (ن) شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ اس ملک کے وزیر اعظم کا دفتر بھی محفوظ نہیں ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فارن آفیس سائفر وصول کرتی رہتی ہے، جھوٹ کا ثبوت سامنےآگیا ہے، البتہ یہ کافی تشویشناک بات ہے کہ اب ملک کے وزیراعظم کا دفتر بھی محفوظ نہیں ہے۔ آرمی چیف کی تعیناتی پر انہوں نے کہا کہ فوجی سپہ سالار کی تقرری آئین کے مطابق وزیر اعظم کا حق ہے، اس پر تنقید کی گنجائش نہیں، تعیناتی آج بھی ہوسکتی ہے مگر عمران خان نے تین مہینے پہلے ہی فیصلہ کرلیا تھا۔
لیگی رہنما نے کہا کہ میرے خیال سے مفتاح اسماعیل اور اسحاق ڈار کی معاشی پالیسی میں کوئی فرق نہیں، البتہ اقتصادی فیصلے وزیراعظم ہی کرتے ہیں، حکومت کوشش کر رہی ہے ملکی حالات پر قابو پایا جائے تاہم 4 سال کی غفلت 4 مہینے میں دور نہیں ہوسکتی۔
شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ معیشت اگر عمران خان کے حوالے کردیتے تو ملک ہی ختم ہوجاتا لیکن اب حکومت ڈلیور کرے گی تو لوگ الیکشن میں اسے ووٹ دیں گے جب کہ ہم نے آخری 15،16 مہینے میں حکومت لی ہے جس میں حالات ہماری توقع سے زیادہ خراب ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے، عمران کو بات کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا، وہ اسمبلی میں آکر حکومت پر تنقید کریں، پارلیامان موجود ہے، سائفر پر کتنے کمیشن بنائیں گے۔
اس کے علاوہ قائد ن لیگ کی واپسی پر بات کرتے ہوئے شاہد خاقان نے کہا کہ ڈاکٹر اجازت دیں گے تو نواز شریف وطن واپس آئیں گے، یہ ان کی حکومت ہے، نواز شریف واپس آسکتے ہیں۔
آڈیو لیک ملک کیلئے نقصان دہ ، اس کے بعد اب کوئی جگہ محفوظ نہیں،شاہدخاقان








