بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایون فیلڈ ریفرنس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے مریم نواز کی سزا کالعدم قرار دے دی

اسلام آباد: اسلام آبادہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کیخلاف مریم نواز کی اپیل منظور کرکےانہیں بری کردیا اور احتساب عدالت کی طرف سے دی جانے والی ان کی سات سال کی سزا کوکالعدم قرار دیدیا ۔ کیپٹن ریٹارئرڈ صفدر کی ایک سال قید کی سزا بھی کالعدم قراردیدی گئی۔ احتساب عدالت نے انہیں عام انتخابات سے قبل 2018 میں یہ سزا سنائی تھی۔ مریم نواز نے اپنی بریت پر ردعمل میں کہا کہ آج نواز شریف سرخرو ہوگئے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کومجموعی طور پر8 سال اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال کی سزا سنائی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں مریم نواز اور کپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اپیلوں پر سماعت ہوئی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔

دوران سماعت عدالت نے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر کو دلائل دینے کی ہدایت کی، مریم نواز کے وکیل امجد پرویز اور نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی روسٹرم پر آگئے۔

پراسیکیوٹر سردار مظفر نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عثمان چیمہ نے دلائل دیے تھے آج انکی طبیعت ٹھیک نہیں، عثمان چیمہ نہیں آ سکتے، عدالت اجازت دے تو میں دلائل دوں، امجد پرویز نے کہا کہ سردار صاحب سے بہتر اس کیس میں اور کون دلائل دے سکتا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ تفتیشی افسر کی رائے کو شواہد کے طور پر نہیں لیا جا سکتا، جے آئی ٹی نے کوئی حقائق بیان نہیں کیے، صرف اکٹھا کی گئی معلومات دیں۔

سردار مظفر عباسی نے کہا کہ واجد ضیا نے یہ ڈاکومنٹس خود دیکھے اور اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا، میں ڈاکومنٹس سے دکھاؤں گا کہ یہ پراپرٹیز 1999 میں خریدی گئیں، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ان پراپرٹیز کی خریداری کے لیے کتنی رقم ادا کی گئی؟ آپ اس متعلق ڈاکومنٹ دکھائیں، زبانی بات نہ کریں، کل کو یہ ساری چیزیں ججمنٹ میں آنی ہیں۔

عدالت نے عدالت نے مریم نواز کی بریت کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا دس سے پندرہ منٹ انتظار کریں ہم مختصر فیصلہ جاری کریں گے۔

کیس کا پس منظر

خیال رہے کہ 6 جولائی 2018 کو شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو(نیب) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر 80 لاکھ پاؤنڈ اور مریم نواز پر 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

اس کے علاوہ عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے لندن میں قائم ایون پراپرٹی ضبط کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسلم لگ(ن) کے رہنماؤں کو یہ سزائیں عام انتخابات سے صرف 19 دن قبل سنائی گئی تھیں۔

نواز شریف، مریم نواز اور محمد صفدر نے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور 19 ستمبر 2018 کو ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کی جانب سے سزا دینے کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

اس فیصلے کے ایک ماہ بعد 22 اکتوبر 2018 کو نیب نے نواز شریف، مریم نواز اور محمد صفدر کی رہائی کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

تاہم عدالت عظمیٰ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ملزمان کی سزا معطلی کے خلاف قومی احتساب بیورو(نیب) کی اپیل خارج کردی تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 6 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے مریم نواز کی ریفرنس کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی درخواست سے اعتراضات ختم کرکے سماعت کے لیے مقرر کردی تھی۔