اسلام آباد(ممتاز نیوز )اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے انڈونیشیا کے سفیر آدم ملاورمان ٹگیو ملاقات،ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیاگیا،اسپیکرقومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے اس موقع پرگفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان انڈونیشیا کے ساتھ خوشگوار برادرانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے،پاکستان انڈونیشیا کے ساتھ اقتصادی و پارلیمانی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہش مند ہے،پارلیمانی سفارتکاری دونوں ممالک کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے،موسمیاتی تبدیلیاں ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا خطرہ ہیںپاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے پاکستان کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا،موسمیاتی تبدیلیوں کا سبب بننے والی زہریلی گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ نا ہونے کا برابر ہے،زہریلی گیسوں کے اخراج کی وجہ سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں میں بڑا حصہ ترقی یافتہ ممالک کا ہے، ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کی عمارت ترقی پذیر ممالک کی تباہی پر کھڑی نہیں کی جاسکتی، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ ضروری ہے،آئندہ ماہ رونڈا میں آئی پی یو جنرل اسمبلی کا اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے اس اجلاس میں قومی اسمبلی آف پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات کو ایمرجنسی آئٹم کے طور پر ایجنڈے میں شامل کرنے کے لیے سیکرٹری جنرل آئی پی یو کو خط بھیجا ہے،خط میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے عالمی فنڈ قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے،انڈونیشین سفیرنے کہاکہ انڈونیشیا پاکستان کے ساتھ اپنے خوشگوار تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،انڈونیشیا کے سفیر آدم ملاورمان ٹگیو نے پاکستان میں حالیہ سیلاب کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔سفیر نے انڈونیشیا کی عوام اور حکومت کی جانب سے پاکستانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا،آدم ملاورمان ٹگیو نے کہاکہ انڈونیشیا کے عوام اور حکومت دکھ کی گھڑی میں پاکستان کے عوام کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، سفیر نے موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصان کے ازالے کے لیے عالمی فنڈ کے قیام کے لیے اسپیکر کی تجویز سے اتفاق کیا، سفیر نے انڈونیشیا کی جانب سے آئی پی یو کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستانی موقف کی تائید کا یقین دلایا۔
پاکستان انڈونیشیا کے ساتھ خوشگوار برادرانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے،راجہ پرویز اشرف








