ملتان(مقبول حسین) نو منتخب چیئرمین آل پاکستان بیڈشیٹ اینڈاپ ہولسٹری مینوفیکچررزایسوسی ایشن سید محمد عاصم شاہ نے حکومت کی جانب سے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے لئے بجلی اور گیس کی قیمت میں اضافے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برآمدی شعبہ زوال کا شکار ہے جبکہ سیاسی اور معاشی عدم استحکام اور آئی ایم ایف کی شرائط نے عملاً پاکستان میں صنعتکار ی کو ناممکن بنا دیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ حکومت برآمدی شعبہ کو رعایتی نرخون پر گیس اور بجلی مہیا کررہی تھی جس کی وجہ سے نہ صرف پاکستانی برآمدکنندگان اپنے تجارتی حریفوں کا موثر طور پر مقابلہ کر رہے تھے بلکہ ان کی کوشش سے قومی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ انہوں نے بجلی پر رعایت کی سہولت کو واپس لینے کو معیشت کیلئے تباہی کا پیش خیمہ قرار دیا اور کہا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر اس فیصلے پرنظر ثانی نہ کی تو نہ صرف صنعتیں بند ہو جائیں گی بلکہ بے روز گاری کا سیلاب اب تک ہونے والی ترقی کے تمام تر ثمرات کو بھی بہا کر لے جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ صورتحال میں زرمبادلہ کی اشد ضرورت ہے۔اس فیصلے سے برآمدات خطر ناک حد کم ہو جائیں گی اور صرف آئندہ ماہ سے ان میں 25 سے 30 فیصد کی کمی واقع ہو سکتی ہے جس سے تجارتی خسارہ بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔اپبوماء کے پیٹرن آف چیف نے خواجہ محمد یونس کہا کہ حکومت نے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو 9 سینٹ فی کلو واٹ پر بجلی اور 9 سینٹ فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے پورا سال گیس فراہم کرنے کی متعدد یقین دہانیوں کے باوجود بجلی اور گیس کی قیمت میں اضافہ کرکے پنجاب کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ختم کرنے کے باعث برآمدات میں شدید کمی کے ساتھ ساتھ لاکھوں مزدور بیروز گار ہو جائیں گے۔
خواجہ محمد یونس نے کہا کہ ٹیکسٹائل ایکسپوٹرز نے انرجی ٹیرف بر قرار رہنے کی حکومتی یقین دہانیوں کی بنا پر اگلے چھ ماہ کے ایکسپورٹ آرڈرز کی بکنگ کی ہوئی ہے لیکن اگر اکتوبر سے بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا گیا تو ان کے لئے ملیں بند کرنے کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں بچے گا۔
حال میں ریٹائر ہونے والے ایسوسی ایشن کے چیئرمین عارف احسان ملک نے کہا کہ پالیسیوں کا عدم تسلسل ہماری انڈسٹری خاص طور پر ایس ایم ایز کے لئے تباہی کا باعث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں انرجی کی ہوش ربا قیمتیں کسی صورت بھی چھوٹی صنعتوں کے لئے قابل عمل نہیں ہیں جس سے ہزاروں کارخانے لامحالہ بند ہو جائیں گے۔
عارف احسان ملک نےکہا کہ ارباب اختیار کو سوچنا چاہئے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کا ہماری برآمدات میں حصہ 60% فیصد سے زائد ہے اور بجا طور پر ملک کے لئے قیمتی زرمبادلہ کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک انٹرنیشنل کمیونٹی کا حصہ ہیں اور ہم دنیا میں سب سے زیادہ پیداواری لاگت کے ساتھ کسی طور پر اپنے سابقتی ملکوں سے مقابلہ نہیں کر سکتے اور اس میں کوئی ابہام نہیں۔ چیئرمین آل پاکستان بیڈشیٹ اینڈاپ ہولسٹری مینوفیکچررزایسوسی ایشن سید محمد عاصم شاہ نے حکومت سے گذارش کی وہ برآمدی شعبہ کی مشکلات کو ملحوظ خاطر رکھے اور اس ضمن میں ہماری ایسوسی ایشن حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہے۔
ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے بجلی وگیس مہنگی کرنے پر برآمدکنندگان حکومت سے نالاں،ریلیف کا مطالبہ








