بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پنجاب حکومت پہلے سے نافذاتھارٹی جیسا ہی احساس پروگرام لانے کیلئے تیار

اسلام آباد:پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی 2015 سے موجود ہونے کے باوجود صوبائی حکومت نے پنجاب احساس پروگرام کے قیام کے لیے ایک بل تیار کیا ہے جس سے مزید بیوروکریٹک پرتیں قائم ہوں گی اورایک جیسے مقاصد کے حصول کے لیے قومی خزانے پر بوجھ ڈال کراداروں کی نقل تیار کی جائے گی،اگر پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی سے متعلق قانون جو پہلے سے ہی نافذ ہے اور اب آنے والا پنجاب احساس پروگرام بل 2022 دونوں کا تجزیہ کیا جائے تو دونوں اداروں کا کام ایک جیسا ہی معلوم ہوگااور دونوں قوانین کی زبان میں بھی بہت سی مماثلتیں ہیں،اتھارٹی اور احساس پروگرام دونوں ہی پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی نگرانی میں چلائے جائیں گے۔اتھارٹی کا ایک چیف ایگزیکٹو آفیسر ہے اور احساس پروگرام کے لیے بھی وہی پوسٹ ہوگی، دونوں اداروں میں ایک جیسی کمیٹیاں اور کونسلیں ہوں گی جن کےارکان ایک جیسے ہوں گے۔اعلیٰ سرکاری ذرائع نےگفتگو میں دی نیوز کو بتایا کہ پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کو 2015میں ایکٹ کے ذریعے نافذ کیا گیا تھا تاکہ پنجاب میں غریبوں اورمعاشی طور پر کمزورافرادکو ایک موثراور جامع سماجی تحفظ کا نظام فراہم کیا جا سکے۔اتھارٹی کا ایک چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور ایک ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر ہوگا جس کا تقرر حکومت کرے گی،چیف ایگزیکٹیو آفیسر، ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور اتھارٹی کے دیگر ملازمین کو پبلک سرونٹ تصور کیا جائے گا۔اس ایکٹ کے تحت نیک نیتی سے کی جانے والی کسی بھی چیز کے سلسلے میں اتھارٹی، چیئرپرسن، چیف ایگزیکٹیو آفیسر ، کوئی رکن افسر ،نوکر، ماہر یا اتھارٹی کے کنسلٹنٹ کے خلاف کوئی مقدمہ، استغاثہ یا کوئی دوسری قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ پنجاب احساس پروگرام کا ایک سی ای او ہوگا، جسے حکومت ان شرائط و ضوابط پر مقرر کرے گی جو وہ طے کر سکتی ہے۔پروگرام کی ایک ایگزیکٹو کونسل ہوگی جسے احساس کونسل کے نام سے جانا جائے گا جس میں درج ذیل شامل ہوں گے، وزیر اعلیٰ پنجاب بطور چیئرپرسن،وائس چیئرپرسن جو کہ ایسا شخص جس کے پاس کم از کم ماسٹر ڈگری ہو جو ہائر ایجوکیشن کمیشن آرڈیننس، 2002 (2002 کا LIII) کے تحت قائم کردہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے تسلیم شدہ ہو جس کے پاس سماجی شعبے میں کم از کم پانچ سال کا تجربہ ہو، اسے چیئرپرسن کی جانب سے نامزد کیا جائے۔