اسلام آباد ( ممتاز نیوز) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری نے کہا کہ گذشتہ دو سال تاجر برادری نے مشکل میں گزارے ہیں کیونکہ کرونا وائرس نے کاروبار برباد کئے جس وجہ سے دکانداروں کیلئے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گئے تھے اور اب مہنگائی کے طوفان نے عوام سمیت تاجربرادری کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اکنامک سروے کے مطابق کاروبار سکٹر رہے ہیں اور تاجروں کو اپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہے۔ ان مشکل حالات میں حکومت نے متوقع سیاسی مارچ کو روکنے کیلئے شہر بھر کے داخلی راستو ں پر کنٹینر رکھ دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کنٹینر رکھنے سے شہریوں اور تاجربرادری میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے جبکہ کاروبار مزید کم ہو رہا ہے اور سرشام مارکیٹوں میں سناٹا چھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کی وجہ سے انڈسٹریل ایریا میں کام کرنے والے مزدوروں کی حاضری بھی کم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متوقع سیاسی مارچ یا دھرنے کی وجہ سے شہر کو سیل کیا گیا تو نہ صرف شہری قیدی بن جائیں گے بلکہ سپلائی نظام متاثر ہونے سے پیداواری سرگرمیاں ٹھپ ہو جائیں گی، روزمرہ کی اشیاء کی قلت پیدا ہو گی، عوام کیلئے خوراک کے مسائل پیدا ہوں گے اور کاروبار کی بندش سے تاجربرادری کا معاشی قتل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی بندش سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ ایمرجنسی کی صورت میں ان کو ہسپتال پہنچانا مشکل ہو جائے گا جبکہ ادویات کی قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبا و طالبات کیلئے بھی تعلیمی اداروں میں پہنچنا ممکن نہیں رہے گا جس سے ان کا تعلیمی نقصان ہو گا۔احسن ظفر بختاوری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہر اقتدار کو کسی بھی صورت بھی سیل کرنے سے گریز کیا جائے اور کاروباری سرگرمیاں جاری رکھی جائیں۔ اگر سیل کرنے کے اقدامات واپس نہ لئے گئے تو کوئی بھی سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور وزیر داخلہ رانا ثناللہ سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں۔ شہریوں کو قید کرنے اور کاروبار کو بند کرنے کے اقدامات سے گریز کیا جائے۔
وفاقی دارالحکومت کی تجارتی سرگرمیوں پر کوئی قدغن نہیں ہونی چاہیے۔ احسن ظفر بختاوری








