بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سٹی کونسل، منتخب ارکان367، بیٹھنے کیلئے نشستیں 309 ہونگی

کراچی: الیکشن کمیشن نے تمام تر دباؤ کے باوجود کراچی میں 23 اکتوبر کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے، ان بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں کراچی میں ایک میٹروپولیٹن کارپوریشن اور 25ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز، 246 یونین کمیٹیز اور 932 وارڈز کا قیام عمل میں آئے گا، ان میں وہ علاقہ جات شامل نہیں ہیں جو کنٹونمنٹ بورڈ کے زیر انتظام آتے ہیں، بلدیہ عظمیٰ کراچی کی سٹی کونسل میں ارکان کی تعداد مجموعی طور پر 367 ہوگی، جن میں یوسی چیئرمین 246، خواتین ممبر 81، لیبر 12، نوجوان 12، اقلیتی ممبران 12، خصوصی افراد 2 اور خواجہ سرا ؤں سے2 ممبران منتخب ہونگے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے موجودہ سٹی کونسل ہال جس کی گزشتہ دنوں 2 کروڑ روپے سے زائد لاگت سے تزئین و آرائش کی گئی اور 8 اکتوبر 2022 کو وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ اور ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے افتتاح کیا، اس میں نشستوں کی تعداد 309 ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے نتیجے میں جو ایوان منتخب ہوگا ان کے اجلاس کہاں پر منعقد ہونگے، نہ تو اس سلسلے میں بلدیہ عظمیٰ کراچی نے کوئی قدم اٹھایا اور نہ ہی حکومت سندھ نے اس بارے میں کسی جگہ کاانتخاب کیا، کراچی میں کئی ایسی عمارتیں اور پلاٹس موجود ہیں جہاں پر نیا سٹی ہال تعمیر کیا جاسکتا تھا لیکن حکومت سندھ نے اس جانب نہ تو کوئی توجہ دی اور نہ ہی اس معاملے میں کبھی کسی سنجیدگی کا اظہار کیا، کیا نیا منتخب ہونے والایہ ہاؤس سڑکوں پر ٹینٹ لگا کر اپنے اجلاس منعقد کرے گا یا پھر کراچی کے شادی ہالز یا ہوٹلز لے کر بلدیاتی ہاؤس کے اجلاس منعقد کئے جائیں گے اگر ایسا کیا گیا تو ان اجلاسوں پر کروڑوں روپے کے اخراجات آئیں گے، حکومت سندھ اور بلدیہ عظمیٰ کراچی پر اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی بلا شرکت غیر حکومت کررہی ہے لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کی جو بنیادی ذمہ داریاں ہیں اسے بھی ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، گزشتہ میئر کراچی کی مدت 30 اگست 2020 کومکمل ہو گئی تھی اس کے بعد سے سرکاری اور سیاسی ایڈمنسٹریٹرز اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، اگر اس عرصے میں کونسل ہال کی تعمیرمکمل نہ ہوتی تو کم از کم اس جگہ کا انتخاب کرکے کونسل ہال تعمیر کرنے کے لئے سنگ بنیاد ضرور رکھا جاسکتا تھا اور اس کاسہرا صوبائی حکومت اور بلد یہ عظمی کراچی کے ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب کے سر ہوتا، گزشتہ دور میں 1932 سے لے کر 2016 تک بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں بننے والی کونسل کے لئے کے ایم سی بلڈنگ میں واقع ہال میں ردو بدل کیا جاتا رہا اور ممبران کے لئے گنجائش نکالی جاتی رہی، آخری بار2016 میں نشستوں کی تعداد جب309کردی گئی تو ہال میں ممبران کے بیٹھنے کے بعد تل دھرنے کی جگہ باقی نہیں رہتی تھی ممبران پھنس پھساکر نشستوں پر بیٹھ جاتے اور اجلاس کی کارروائی میں حصہ لیتے، گزشتہ 6 سالو ں میں نئے کونسل ہال بنانے کے حوالے سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی اب یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی نئی منتخب ہونے والی کونسل کا اجلاس آخر کار کہاں پر منعقد ہوگا، منتخب میئر کراچی اور ممبران کس مقام پر بیٹھ کر اجلاس منعقد کریں گے، کراچی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے پاس جو ایسی عمارت موجود ہیں جس میں یہ اجلاس منعقد ہوسکیں اس میں بھی کسی قسم کی کوئی تیاری نہیں کی جارہی، موجودہ بلدیہ کا کونسل ہال 1932ء میں تعمیر کیا گیا تھا جس کی نشستوں میں وقتاً فوقتاً اضافہ ہوتا رہا، ایم اے جناح روڈکے ایم سی بلڈنگ کی پہلی منزل پر واقع کونسل ہال اس وقت کی ضرورت کے پیش نظر تعمیر کیا گیا تھا، آبادی کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً منتخب نمائندوں کی نشستوں میں اضافہ ہوتا رہا اور اس ہال میں ردوبدل کے ساتھ نشستوں کی گنجائش نکالی جاتی رہی بلدیہ عظمیٰ کراچی کو 1933ء میں میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا گیا تو نشستوں کی تعداد 57تھی اور ہال میں کافی گنجائش تھی، 1953ء بلدیاتی نشستوں میں اضافہ کر کے 100 کردیا گیا، 1960ء میں بلدیاتی نظام میں پھر تبدیلی ہوئی تو نشستوں کی تعداد کو کم کر کے 58کیا گیا، 1966ء میں پھر ان میں اضافہ کر کے 103کر دیا گیا، 1979ء میں ملک میں ایک تبدیل شدہ بلدیاتی نظام نافذ ہوا تو کراچی میں بلدیاتی نشستوں کی تعداد 166ہوگئی جس کے لیے ہال میں گنجائش موجود تھی، اگلے انتخابات 1983ء منعقد ہوئے تو نشستوں میں اضافہ ہوا اور تعداد 232ہوگئی اس کے لیے ایک بار پھر اس کونسل میں رد وبدل کیا گیا 1987ء میں کراچی میں دوسطحی نظام ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن کا نظام نافذ ہوا بلدیہ عظمیٰ کے لیے منتخب نمائندوں کی تعداد ایک بار پھر 77ہوگئی،2001ء میں نیا بلدیاتی نظام متعارف کروایا گیا تو بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل کے لیے 255ممبر منتخب کیے گئے، 2016 کے بلدیاتی انتخابات میں ان ممبران کی تعداد بڑھ کر 309 ہوگئی تھی اور اس کونسل کی مدت 30 اگست 2020 کو مکمل ہوگئی۔