اسلام آباد: سٹیٹ بینک کی جانب سے اوپن مارکیٹ سے ڈالر خریدنے پر پابندیاں مزید سخت کرنے کے بعد اسلام آباد کے زیادہ تر منی چینجر اس پر عمل درآمد کرتے نظر آ رہے ہیں، تاہم بلیک میں ڈالر کی مہنگے داموں فروخت کی شکایات بھی بڑھ رہی ہیں۔
گزشتہ دنوں سٹیٹ بینک کے ایکسچینج پالیسی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اوپن مارکیٹ سے ڈالر خریدنے والوں کے لیے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں جس کے تحت کے تحت اب دو ہزار ڈالر کی مالیت سے زائد کوئی بھی دیگر غیرملکی کرنسی خریدنے کے لیے شناختی کارڈ کے علاوہ بینک سٹیٹمنٹ، ویزا، ٹکٹ یا دیگر دستاویزات فراہم کرنا لازم ہے۔ اس کے بعد اب عام آدمی کے لیے بغیر وجہ ڈالر خریدنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
اسلام آباد کے اکثر منی چینجرز کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کے بعد اب ان کا کاروبار مندی کا شکار ہو گیا ہے۔
اسلام آباد کے بلیو ایریا میں موجود کرنسی کے تاجروں کے پاس ڈالر خریدنے کے لیے آنے والوں کو بتایا جا رہا ہے کہ انہیں دو ہزار سے زائد ڈالر خریدنے کے لیے کیش کے بجائے بینک چیک کی شکل میں ادائیگی کرنا ہو گی، جبکہ پاسپورٹ، ویزا اور دیگر سفری دستاویزات تو دو ہزار سے کم ڈالر خریدنے والوں سے بھی طلب کی جا رہی تھیں۔
ایک بڑی کرنسی کمپنی کی منیجر کا کہنا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں استحکام نہ ہونے کی وجہ سے بھی کوئی مارکیٹ میں ڈالر بیچنے نہیں آ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ کرنسی ڈیلرز کے پاس ڈالر ہی دستیاب نہیں ہیں۔‘
اس کے علاوہ سٹیٹ بینک کی جانب سے ڈیلرز پر یہ پابندی ہے کہ دو ہزار ڈالر یا اس کے برابر مالیت کی کرنسی فروخت کرتے وقت گاہک سے بینک دستاویزات وغیرہ طلب کریں اور ہر چیز کا ریکارڈ رکھیں اس وجہ سے بھی کنفیوژن پیدا ہوئی ہے۔
ایک اور کمپنی کے نمائندے کے مطابق گزشتہ دو تین ہفتوں سے کام کاج نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔
ڈالر، ریال خریدنے پر نئی پابندیاں، منی چینجرز کا کاروبار متاثر








