بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ٹرانسجینڈر ایکٹ کے خلاف مقدمات کی سماعت 2 نومبر تک ملتوی

اسلام آباد:وفاقی شرعی عدالت نے ٹرانسجینڈر ایکٹ کے خلاف مقدمات کی سماعت 2 نومبر تک ملتوی کردی۔
وفاقی شرعی عدالت میں قائم مقام چیف جسٹس سید محمد انور اور جسٹس قاسم ایم شیخ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
عدالت میں ٹرانسجینڈر ایکٹ 2018 کے خلاف مقدمات سینیٹر مشتاق احمد خان و دیگر نے دائر کیے۔
جے یو آئی ف، اوریا مقبول جان، سینیٹر فرحت اللہ بابر بھی درخواست گزاروں میں شامل تھے۔
عدالت نے وزارت انسانی حقوق سے خواجہ سراؤں کو دی گئی ملازمتوں کا ڈیٹا طلب کر رکھا تھا۔
وزارت انسانی حقوق نے عدالت میں کہا کہ رپورٹ جمع کرادی 39 وزارتوں سے رپورٹ منگوائیں لیکن تمام سے جواب نہیں مل سکا وقت دیا جائے۔
عدالت نے کہا کہ یہ بات قابل تشویش ہے کہ وزارت انسانی حقوق کے پاس ڈیٹا نہیں۔
عدالت نے حکام وزارت انسانی حقوق سے استفسار کیا کہ کب تک رپورٹ جمع کرائیں گے۔
حکام وزارت انسانی حقوق نے کہا کہ آئندہ سماعت تک رپورٹ جمع کرائیں گے۔
عدالت نے وزارت انسانی حقوق کو آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دے دی۔
نادرا کے وکیل نے کہا کہ نادرا ریگولیشن کو تبدیل کررہے ہیں، چیئرمین نادرا نے منظوری دے دی بورڈ سے منظوری باقی ہے۔
عدالت نے کہا کہ نادرا جلد بورڈ کا اجلاس بلا کر ریگولیشنز میں ترمیم کی منظوری لے۔
کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی نوٹس دے دیں۔
عدالت میں سینیٹر مشتاق احمد خان کے وکیل عمران شفیق نے دلائل کا آغاز کر دیا۔
قائم مقام چیف جسٹس شرعی عدالت نے کہا کہ ٹرانسجینڈر ایکٹ وفاق کا ہے ابھی صوبوں کی ضرورت نہیں۔
دوران سماعت وکیل سینیٹر مشتاق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیس میں بہت ساری درخواست دائر ہوئی ہیں، جینڈر اور صنف ایک ہی چیز ہے، قرآن اور سنت میں کوئی فرق نہیں۔
وکیل نے کہا کہ کیا قرآن اور سنت جنس کی تبدیلی کریں گے، مرد اور عورت کا دائرہ کار الگ الگ واضح کیا ہے، جنسی اور صنف کا تعین علامات ہی ہیں یا کوئی اور بھی ہے۔ قانونی اور شرعی طور پر دیکھنا ہو گا کہ کیا کوئی خود اپنے جنس کا تعین کر سکے گا۔
وکیل نے مزید کہا کہ ایکٹ میں ٹرانسجینڈر کا لفظ ہے مگر اس کی کوئی تشریح نہیں کی گئی، ٹرانسجینڈر فرد کی صرف تعریف کی گئی ہے، ٹرانسجینڈر وہ ہے جو دونوں صنف کا مالک ہو۔
سماعت کے دوران وکیل عمران شفیق نے کہا کہ ایکٹ کے تحت کوئی بھی ٹرانسجینڈر کو اختیار ہوگا کہ وہ خود سے اپنے صنف کا فیصلہ کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ قران و سنت میں خود سے صنف کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں، اسلام میں انٹر سکس کا تعین کیا گیا ہے، اسلام صنف کی واضح علامات کی بیناد پر مرد اور عورت کی کیٹگری رکھتا ہے۔
عمران شفیق کے وکیل کا کہنا تھا کہ خود سے صنف کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے، عالمی قانون بھی خود سے صنف کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔
وکیل نے کہا کہ پہلی ترمیم میں نے ٹرانسجینڈر ایکٹ میں جمع کروائی تھی، میری ترمیم کے دیگر سینیٹر نے بھی ترامیم جمع کروائیں، اب میں نے ایک نیا بل سینٹ میں پیش کیا ہے، نئے بل کا جائزہ کیلئے کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔
وفاقی شرعی عدالت نے کہا کہ آپ اپنے نئے بل کی کاپی بھی دے دیں۔