بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سعودی عرب مخالف مبینہ ٹوئٹس پر امریکی شہری کو 16 سال قید

ریاض: سعودی شاہی عدالت نے مملکت کے خلاف مبینہ ٹوئٹس کرنے پر امریکی شہری کو 16 سال کے لیے سزا سناتے ہوئے جیل بھیج دیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سعودی شاہی عدالت نے سعودی نژاد امریکی شہری سعد ابراہیم المادی کو 16 سال قید کی سزا دی ہے۔

جس کے باعث یہ معاملہ دونوں تاریخی اتحادی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں اضافے کا سبب بن گیا ہے۔

سعد ابراہیم المادی کے بیٹے نے بھی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے والد کو ٹوئٹس کرنے پر 16 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکی شہری کو جیل بھیجنے کے معاملے کو سعودی حکومت کے سامنے اٹھایا جارہا ہے۔ کسی نے ہمارے وجود کو چیلنج کیا تو جہاد کیلئے تیار ہیں، سعودی شہزادہ

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ریاض اور واشنگٹن کے ذریعے سعودی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور اعلیٰ سطحوں پر کیس کے حوالے سے شدت کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کا استعمال کبھی بھی مجرمانہ قرار نہیں دینا چاہیے۔

کیس کی تفصیلات
واضح رہے کہ امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ کے مطابق فلوریڈا کے رہائشی سعد ابراہیم المادی کو گزشتہ برس نومبر میں سعودی عرب میں گرفتار کیا گیا تھا، اُس وقت وہ اپنے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے امریکا سے سعودی عرب آئے ہوئے تھے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق انہیں گزشتہ سات برسوں کے دوران 14 مبینہ ٹوئٹس پر گرفتار کیا گیا جن میں انہوں نے سعودی عرب کی حکومت پر تنقید کی تھی۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سعد ابراہیم المادی ، جو کہ اس وقت 72 برس کے ہیں، کو سعودی عدالت نے 3 اکتوبر کو 16 برس قید کی سزا اور مزید 16 برس تک سفری پابندیوں کی سزا سنائی ہے۔

سعد ابراہیم المادی کے بیٹے ابراہیم کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے سعودی عرب میں بدعنوانیوں اور صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے نہایت نرم لہجے میں چند ٹوئٹس کیے تھے۔

ابراہیم نے مزید بتایا کہ ان کے والد کے خلاف دہشت گردی کی حمایت اور مالی معاونت نیز مملکت سعودیہ کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ سعد ابراہیم المادی کو سزا سنائے جانے کے وقت عدالت میں کوئی بھی امریکی نمائندہ موجود نہیں تھا کیونکہ سعودی عرب نے مقدمے پر سماعت کے لیے جو تاریخ دی تھی اس سے پہلے ہی سماعت شروع کر دی۔

ویدانت پٹیل کا کہنا تھاکہ 3 اکتوبر تک ہمیں سعودی عرب سے کوئی پیغام نہیں ملا تھا۔