بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سندھ سے پیپلزپارٹی کا سیاسی جنازہ نکلنے والا ہے،حلیم عادل شیخ

اسلام آباد(ممتاز نیوز) قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ، سینیٹر سیف اللہ ابڑو، سابقہ ایم این اے این اے 237 جمیل احمد خان کے ہمراہ پنجاب ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا سندھ میں سے پیپلزپارٹی کا سیاسی جنازہ نکلنے والا ہے سندھ سیلاب سے ڈوبا رہا ہے وزیر خارجہ بلال زرداری ملک سے فرار رہے کبھی کبھی سندھ کے دورے پر آتےہیں لیکن ان کو سیلاب متاثرین کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ 137 امداد کے جہاز سندھ میں آئے ڈیڑھ سو ارب کی امداد سندھ کو ملی لیکن کسی نے کہیں نہیں دیکھا یہ امداد کہاں گئی۔ سیلاب متاثرین تاحال بے یارو مددگار سڑکوں پر بیٹھے ہیں۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کے پی میں سیلاب آیا لیکن ایک ہفتے بعد سب متاثرین کو اپنے گھروں میں منتقل کر دیا گیا حکومت نے موثر اقدامات اٹھائے۔ پنجاب میں سیلاب آیا وہاں بھی حکومت نے کام کیا عوام گھروں تک منتقل ہوچکی ہے لیکن سندھ میں سیلاب کے بعد ابھی تک رلیف کا کام مکمل نہیں ہوا نہ عوام کو راشن ملا نہ ٹینٹ فراہم کئے گئے نہ ہی متاثرہ علاقوں سے پانی نکالا گیا ہے۔ 15 سالوں میں اربوں روپے سندھ کے محکمہ ایریگیشن کو ملے لیکن نہ بھل صفائی ہوئی نہ بند مضبوط کئے گئے سندھ حکومت نے کرپشن کرنے کے لئے سندھ کے عوام کو سیلاب میں دھکیل دیا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا الیکشن کمیشن اور امپورٹڈ حکومت کے گٹھ جوڑ سے کراچی ملیر میں این اے 237 میں دھاندلی کی گئی ہم نے ضمنی انتخابات میں 11 سیٹوں میں سے 8 سیٹیں جیت کر ریکارڈ قائم کیا پی ٹی آئی نے سب چوروں سے مقابلہ کیا یہ وہ سیٹیں تھی جہاں کم سے کم مارجن تھا وہاں الیکشن کروایا گیا لیکن اس کے باوجود 13 جماعتوں کو عوام نے مسترد کردیا، ملتان میں 2018 میں جو ووٹ پی ڈی ایم کی جماعتوں نے حاصل کیا اس بار اس سے آدھے بھی ووٹ انہیں نہیں ملے، این اے 237 میں پولیس کی موجودگی میں ٹھپے مارے گئے ہمارے کراچی کے صدر بلاول غفار پر پولیس کی موجودگی میں تشدد کیا گیا این اے 237 میں پولیس کی موجودگی میں ٹھپے مارے گئے ہمارے کراچی کے صدر بلاول غفار پر پولیس کی موجودگی میں تشدد کیا گیا۔این اے 237 میں پولیس، آر او، اور الیکشن کمیشن کے ذریعے دھاندلی کرائی گئی یہ سیٹ ہماری ہے اور رہے گی ہم نے ہائی کورٹ میں رزلٹ کو چیلینج کر دیا ہے دھاندھلی کے تمام ثبوت عدالت کو فراہم کر دیئے ہیں ہمیں عدالتوں پر بھروسا ہے، این اے 237 میں 15ہزار کے قریب جعلی ووٹ ڈالے گئے ہم چاہتے ہیں فرانزک آڈٹ ہونے چاہیے نادرا کے ذریعے ووٹ کی تصدیق کی جائے ہم فیس ادا کرنے کو تیار ہیں این اے 237 میں پولیس کی نگرانی میں ٹھپے لگائے گئی پولیس اور آر او، الیکشن کمیشن کے عملے میں ملکر دھاندھلی کی سرکاری اسپیشل برانچ کے لوگ پولنگ اسٹیشن میں موجود تھے ہم ہائی کورٹ میں گئے ہیں۔2018 کے عام انتخابات میں سندھ میں حکومت بنانے کے لئے ہمارے پاس 12 سیٹیں کم تھی 25 سیٹیں پیپلزپارٹی نے ایسی جیتی جس پر کم مارجن تھا لیکن اس بار بھرپور تیاری سے انتخابات ہونگے اس بار سندھ سے پیپلزپارٹی کا خاتمہ ہوگا، 2018 میں جو پی ڈی ایم کی جماعتوں نے الگ الگ ووٹ لیے اس بار ضمنی انتخابات میں اس سے آدھے بھی ملکر ووٹ نہیں لئے۔ ضمنی انتخابات میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ملکر بھی پی ٹی آئی کا مقابلہ نہیں کر پائی۔حلیم عادل شیخ نے کہا ایک طرف الیکشن کمیشن نے کراچی میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کروائے ہیں دوسری جانب سپریم کورٹ کو لکھا ہے کہ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے میں سنجیدہ نہیں ہے، پی ٹی آئی کی مقبولیت سے خوفزدہ جماعتوں نے چوتھی بار کراچی میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے میں کردار ادا کیا ہے۔ ایم کیو ایم نے بلیک میل کر کے وفاقی حکومت سے کراچی کے انتخابات ملتوی کرائے ہیں۔ ایک کیو ایم نے ہمیشہ بندوق کے زور پر انتخابات لڑے اب ایم کیو ایم ماضی کا قصہ پارینا ہوچکی ہے کامران ٹیسوری نے ایم کیو ایم کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی ہے کراچی کی عوام نے کراچی کو مسترد کر دیا ہے ایم کیو ایم بلیک میلنگ کی سیاست کرتی ہے اگر ایم کیو ایم میں تھوڑی سے بھی شرم ہو تو حکومت سے الگ ہوجائے الیکشن کمیشن سے قوم کو کوئی امید نہیں ہے موجودہ الیکشن کمیشن غلام بنی ہوئی ہے آڈیو لیک میں واضح ہوگیا تھا کس طرح کم مارجن والی سیٹوں پر استعیفے منظور کئے گئے ہمیں عدلیہ پر بھروسہ ہے عدالت میں جائیں گے۔ ایم کیو کی پانچ سیٹیں موجود ہیں یہ بجھتا چراغ ہے اس کے بعد ان کے چراغ میں روشنی نہیں رہے گی ایم کیو ایم کے لیڈرون نے اپنے آپ کو او لیکس پر لگا دیا ہے پہلے ایم این ایز کو بیچا اب گورنشپ بھی بیچ دی جس تنظیم نے لسانیت پھیلائی اللہ تعالیٰ اس تنظیم کو تباہ کر دیا ہے ایم کیو کیو اب کسی بھی انداز میں نہیں آسکتی اگر تھوڑی بہت عرت بچانا چاہتے ہیں تو موجودہ حکومت سے فوری الگ ہوجائیں۔ حلیم عادل شیخ نے کہا نئے انتخابات فوری کروائے نہیں تو انقلاب آئے گا جسے موجودہ حکومت سنبھال نہیں سکے گی ضمنی انتخابات میں عوام نے ان سب کو فارغ کر دیا ہے جو لیبارٹری میں تجربہ کار بیٹھے ہیں ان کے سارےتجربے فیل ہوچکے ہیں، جو بیاڈن نے جو بات کی ہے وہ ملک کو ڈیفالٹ کی طرح لے جانا چاہتے ہیں۔ سابق رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر)جمیل احمد خان نے کہا 16 اکتوبر کو سندھ حکومت کی انتخابات میں مداخلت کے شواہد سامنے آتے رہے پوری دنیا کی میڈیا نے سرکاری مشینری کی مداخلت دکھائی لیکن الیکشن کمیشن نے کوئی بھی نوٹس نہیں لیا۔ این اے 237 میں 2018 میں ٹرن آئوٹ 46 فیصد تھا تب بھی پ پ نے 32 ہزار ووٹ لئے اس بار 20 فیصد ٹرن آئوٹ تھا پھر بھی 32 ہزار ووٹ لئے ہیں یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے دھاندلی کے تمام ثبوت ہم نے سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائے ہیں ایک پولنگ اسٹیشن پر 15 لوگ داخل ہوئے، ثبوت سامنے آچکے ہین ایسے بلیٹ باکسزپکڑے گئے جن پر پر تیر کےمہر پہلے سے لگی تھی اسپیشل برانچ کے لوگ پولنگ اسٹیشن کے اندر پکڑے گئے ایک سرکاری ملازم پریزائیڈنگ آفیسر کے کمرے میں بیلٹ پیپرزپر مہریں لگا رہا تھا ہم نے تمام دھاندھلی کا احتجاج کیا لیکن الیکشن کمیشن نے کوئی بھی نوٹس نہیں لیا۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا سندھ سیلاب سے ڈوبا ہوا ہے، پیپلزپارٹی امدادی سامان کی تقسیم کے جھوٹے دعوے کر رہے ہیں میں نے سندھ کے کمشنر و ڈپٹی کمشنر سے سے رابطہ کیا تھا مجھے بتایا گیا سامان کہیں پہنچا سندھ سارا ڈوبا ہوا ہے کہیں بھی نہ راشن دیا گیا ہے نہ ٹینٹ دیئے گئے ہیں سندھ حکومت نے 30 اگست تک 1۔1 بلین روپے خرچہ دکھایا اس حساب سے لاڑکانہ کو 4 کروڑ 20 لاکھ روپے دیئے گئے تو باقی اضلاع میں کیا دیئے ہونگے لاڑکانہ کے حالات بہت خراب ہیں پیپلزپارٹی حلف لیکر راشن بانٹے ہیں کہ ووٹ پ پ کو دیں گے گڑھی خدا بخش کی یوسی میں عوام کو امداد تک نہیں ملی دادو وزیر اعلیٰ سندھ کا ضلع ہے اس کے حالات بھی خراب ہیں سارا دادو ڈوبا ہوا ہے سندھ حکومت سیلاب زدگان کی مدد کرنے میں ناکام گئی ہے