اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہاہے کہ بھارت روس سے تیل لے سکتا تو یہ ہمارا بھی حق ہے، اگر بھارت جیسی شرائط ہوں گی تو ڈیل کو آگے بڑھایا جائے گا۔
میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ میں نے واشنگٹن میں حکام کو روس سے تیل بر آمد کرنے والی بات سے آگاہ کردیا ہے جس پر انہیں کوئی اعتراض نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اُمید ہے آنے والے دنوں میں اچھی خبریں آئیں گی، ملکی زر مبادلہ کے ذخائر بھی آئندہ دنوں میں بہتر ہوجائیں گے، ہم معیشت کی بہتری کے لئے اقدامات کر رہے ہیں، پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مہنگائی کم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں، عوام پرمہنگائی کا بوجھ کم کریں گے جب کہ ڈالر کی اصل قدر 200 روپے سے کم بنتی ہے، اس کا اضافہ مصنوعی ہے۔
قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئےاسحاق ڈار نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی بہت بڑا چیلنج ہے اور معاشی ترقی میں ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس صدی میں گڈ گورننس ٹیکنالوجی کو بڑی باریکی سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ملک 4 سال پہلے کچھ اور تھا لیکن اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ملک کی معیشت کو بہتر کریں اور ہم نے یہ ذمہ داری لی ہے۔ ہم نے 5 دن کے اندر ہی بجٹ پیش کیا اور ایک مہینے میں ہم نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدہ کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ امید ہے تمام سیاسی جماعتیں پاکستان کے لیے مل کر کام کریں گی اور ملکی معیشت کے استحکام کے لیے متعدد اقدامات کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے دور میں پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا۔ ہمارے دور میں معیشت 6 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی تھی اور اگر پاکستان اس طرح ترقی کرتا رہتا تو 2030 تک دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہو جاتا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے چارٹر آف اکانومی پر متفق ہونا ہو گا۔ اتحادی حکومت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے اور پاکستان کی بہتری کے لیے سب کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ ملک ہے تو سیاست ہے اور ملک نہیں ہو گا تو سیاست کہاں سے ہو گی۔ اس لیے پاکستان ہمارا ملک ہے اور اس کی ترقی کے لیے کام کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مارکیٹ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں ہو گا۔ ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے میں ہم کامیاب ہو گئے ہیں اور ہم نے اپنے ملک کے مفاد کو نقصان نہ پہنچانے کی قسم کھائی ہے۔انہوں نے کہا کہ لگتا ہے آپ 18 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کو بھول گئے ہیں اور ہم نے وعدہ کیا تھا لوڈ شیڈنگ کو ختم کریں گے اور یہ ہم پورا کر دیا۔ ہم نے ضرب عضب اور ردالفساد آپریشن بھی کیا اب کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مجھے اس وقت بلایا جاتا ہے جب معیشت کا بٹھہ بیٹھ جاتا ہے تاہم ہم نے ماضی میں بھی چیزیں بہتر کی ہیں اور اب بھی بہتر کریں گے۔ یہ مہنگائی پونے 4 سال میں آئی ہے، مہنگائی نہ 6 مہینے میں آتی ہے نہ 6 مہینے میں جاتی ہے۔
روس سے تیل لینا ہمارا حق ہے، بہتر ڈیل ہوگی تو ضرور لیں گے: وزیر خزانہ








