بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

قوم کیلئے خوشخبری،فیٹف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا

پیرس:فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(فیٹف) نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا۔
فیٹف کا 2 روزہ اجلاس پیرس میں ہوا جس میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیرمملکت برائے خارجہ امورحنا ربانی کھر نے کی۔ اجلاس کے بعد باقاعدہ فیٹف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا اعلان کیا۔
اجلاس میں دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ سے متعلق پاکستان کے اقدامات کو سراہاگیاتاہم اجلاس کے اعلامیہ میں کہاگیا پاکستان ایف اے ٹی ایف کی مانیٹرنگ میں رہے گا، پاکستان کو اینٹی منی لانڈرنگ اورٹیررفنانسنگ قانون پرمزید عملدرآمد کی ضرورت ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیٹف کے صدر ٹی راجہ کمار کا کہنا تھاکہ یوکرین جنگ کی وجہ سے روس کی فیٹف رکنیت معطل کر دی گئی، کانگو، موزمبیق اور تنزانیہ کو گرے لسٹ میں شامل کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کوایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے، پاکستان 2018 سے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر تھا اور پاکستان نے تمام مطالبات پر کام کیا ہے ۔
صدر راجہ کمار کا کہنا تھاکہ ہم پاکستان کو گرسے لسٹ سے باہر نکلنے میں خوش آمدید کرتے ہیں، فیٹف نے پاکستان کا دورہ کیا اور تمام اصلاحات کا جائزہ لیا، پاکستان نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ روکنے کے نظام میں بہتری لائی اور 34 نکات پر عمل درآمد کیا ہے۔
فیٹف نے اس سے پہلے پاکستان کی جانب سے فیٹف ایکشن پلان پر عمل درآمد کو تسلی بخش قرار دیا تھا جبکہ پاکستان نام گرے لسٹ سے نکالنے کے حتمی اعلان سے پہلے فیٹف کی ٹیم فیزیکلی بھی پاکستان کا دورکیا اور جس پر اُس نے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
واضح رہے کہ
واضح رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کی تعداد 37 ہے جس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی سمیت 25 ممالک، خلیج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن شامل ہیں۔تنظیم کی بنیادی ذمہ داریاں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔
2008 میں ایف اے ٹی ایف نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں پاکستان میں منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسگ کے خلاف جامع سسٹم نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور یہ مانیٹرنگ لسٹ میں آ گیا۔ ایک سال میں تین بار ادارے کی جانب سے بیانات جاری ہوئے اور خدشہ ظاہر ہوا کہ اس کی وجہ سے منی لانڈرنگ ہو سکتی ہے اور دہشت گردی کی مالی معاونت ہو سکتی ہے۔
اگلے برس 25 فروری 2009 کو ایف اے ٹی ایف نے جہاں گذشتہ برس دوہرائے جانے والے خدشات کو پھر سے بیان کیا وہیں پاکستان میں اس کے تدارک کے لیے اس ضمن میں کیے جانے والے اقدامات کا خیر مقدم بھی کیا۔ ادارے نے پاکستان سے کہا کہ وہ منی لانڈرنگ کے معاملے پر ورلڈ بینک اور ایشیا پیسیفک گروپ کے ساتھ مکمل تعاون بھی کرے۔
2010 میں جہاں پاکستان میں اعلیٰ سیاسی قیادت کی جانب سے ایف اے ٹی ایف کی تجاویز پر ایکشن پلان کے عزم کا خیر مقدم کیا گیا گرے لسٹ سے نکالا گیا وہیں یہ بھی بتایا گیا کہ ابھی اور بھی اقدامات باقی ہیں جو پاکستان کو کرنا ہوں گے۔ ان میں کراس باڈر کیش ٹرانسفر پر کنٹرول، دہشت گردوں کے اثاثوں کا پتہ لگانے اور ان کو فریز کرنے کے لیے مربوط طریقہ کار بھی شامل تھا۔اگلے تین برس کے دوران پاکستان کے ایکشن پلان پر عدم اطمینان کا اظہار جاری رہا۔
2013 میں پاکستان سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ درست قانون سازی کریں اور یقینی بنائیں کہ اس نے ایف اے ٹی ایف کے معیار کے مطابق اقدامات کیے ہیں۔
2014 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو انسداد دہشت گردی کے ترمیمی آرڈیننس کو باضابطہ طور پر قانون کا درجہ دینے پر زور دیا۔2015 میں پاکستان مانیٹرنگ لسٹ سے نکل آیا۔
2018 میں پاکستان ایک مرتبہ پھر گرے لسٹ میں چلا گیا۔
2019، 2020 اور 2021 میں بھی یہی صورتحال رہی اور اب طویل انتظار کے بعد پاکستان کے اقدامات پر ایف اے ٹی ایف نے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔