کراچی: صدر اے این پی پختونخوا ایمل ولی خان نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں ہمارا مقابلہ صوبائی حکومت سے تھا ہم امید کر رہے تھے کہ لیول پلائنگ فیلڈ ملے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ چار سدہ میں جو ماحول تھا اس میں عمران خان نیازی 78 ہزار ووٹ کسی صورت نہیں لے سکتے۔ پری پول ریگنگ ہوئی ہے اور پولنگ ڈے پر ریگنگ ہوئی اور تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے جنرل انتخابات میں ڈیوٹی ٹیچرز کی لگتی ہے اور ٹیچرز کی جگہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ڈیوٹی پر لگایا گیا لیڈی ہیلتھ ورکرز کا الیکشن ڈیوٹی سے کیا لینا دینا ہے اس پر بھی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ الیکشن کمیشن موجود تھا اور ہم نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے لیکن ڈیوٹیز صوبائی حکومت لگاتی ہے۔وہ جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کر رہے تھے۔ ایمل ولی نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے پشاور کے کمشنر تحریک انصاف کے ورکر ہیں ان پر مختلف الزامات لگتے رہے ہیں پی ٹی آئی کے سینیٹر ان کے قریبی خاندانی شخص ہیں انہی کی بدولت وہ کمشنر پشاور لگے ہوئے ہیں۔ ہم ثبوت لے کر الیکشن کمیشن گئے ہیں ایک پولنگ اسٹیشن میں میرے ایک سو پندرہ ووٹ ہیں عمران خان کے ایک سو نو ہیں اور فارم 47 میں جو اندراج ہوا ہے اس کے مطابق میرے 115 ہیں جبکہ عمران خان کے ایک ہزار نوے ہیں ایک اور جگہ میرے 190 ووٹ کو 140 بنا دیا گیا ہے فارم 45 میں 190 ہے اور فارم 47 میں 140 ہے۔ الیکشن کمیشن نے مانا ہے اور دو ٹوک کہا ہے کہ حلقہ کھولیں گے اور میں سمجھتا ہوں یہی سب پشاور اور مردان میں بھی ہوا ہوگا۔ الیکشن مہم ہم چلا رہے تھے مریم نواز کو بھی آنا تھا وہ اپنے والد سے ملنے چلی گئیں، مولانا آئے جلسہ کیا گیا۔ کم سے کم تیس سے چالیس ہزار ووٹوں کی دھاندلی کی گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مردان میں پوری مہم چلائی ہے ہمارے ووٹرز نکلے ہیں اور چارسدہ میں ظاہر ہے اونر شپ تو مجھے لینی ہے لیکن سپورٹ میں وہ میرے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں کمرے میں کیا ہوا ہے یہ آخرت میں پتہ چلے گا کون منافق ہے کون نہیں ہے اس سے متعلق تو اپنوں کا اور مخالف کسی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ اتحادی جماعتوں کا بھرپور ساتھ نہ دینا ایک پہلو ہوسکتا ہے لیکن اصل بات ان کی دھاندلی ہے۔ حکومت بنی تو گورنر شپ کی آفر ہمیں ملی ہم نے میاں افتخار کا نام دیا پھر اس میں مسائل پیدا ہوئے جے یو آئی کی طرف سے پھر میری اور مولانا کی بات ہوئی میں نے اُن سے یہی کہا کہ میں آپ کو انکار نہیں کرسکتا لیکن جب غلام علی آئے تھے تو فاٹا انضمام کی بات بہت واضح کر دی تھی کہ اس پر ایک قدم پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ اس اعلان کے بعد بھی ابھی تک گورنر نہیں لگا ہے شاید کوئی اور مسئلے ہوں گے۔ ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ ایک دو مہینے پہلے جو سوات کی ویڈیو آئی تھی جس میں سکیورٹی ادارے کے ایک اہلکار اور ڈی ایس پی کو اغوا کیا گیا تھا۔ اسی آئی جی کے ہوتے ہوئے اگر امن نہیں ہے اسکول وین پر فائرنگ ہو رہی ہے۔ عاطف خان کے ردِ عمل میں کل بیان آیا ہے کہ طالبان کا بیان آتا ہے کہ نہ ہم افغانستان گئے تھے نہ گئے ہیں اور ہم پاکستان میں موجود تھے اور ہیں۔ کیا سیف بتاسکتے ہیں کہ اگر خط کا کوئی خاص رنگ ہوگا وہ طالبان کی طرف سے ہوگا نہیں تو نہیں ہوگا وہ تو خود ترجمان ہیں میرے خیال میں اس پروجیکٹ کو یہ نام دینا چاہئے ٹی ٹی پی ٹی آئی اس کے ترجمان سیف ہیں اور ہمارے صوبے کے لئے جو پلان تھا اس پر ہی عمل پیرا ہیں عمران خان جب آئے انہوں نے نعرہ لگایا کہ طالبان کو آفیس دیئے جائیں اور باقاعدہ صوبائی حکومت کی طرف سے طالبان کو سرکاری فنڈز دیئے گئے ہیں اُن کے مدارسوں کو سینٹرز کو پھر جب وفاق میں حکومت آئی تو افغانستان میں غلامی کی زنجیریں توڑنے کا نعرہ لگا دیا گیا اور ان کے وزراء اور وزیراعلیٰ نے طالبان کو ایڈ کی شکل میں باقاعدہ پیسے دیئے ہیں، شاہ فرمان کا ثبوت وہ دے چکے ہیں انہوں نے خود ہی بیان دیا تھا کہ مجھ سے رابطہ ہوا ہے جرگے ہوئے ہیں دو کروڑ پچیس لاکھ روپے آئے ہیں یہاں تک بولا ہے کہ پانچ پانچ ہزار کے نوٹ ملے ہیں اور کیا ثبوت دیا جاسکتا ہے۔ چار پانچ ماہ پہلے میں نے یہ بیان دیا تھا تو اگلے دن ہی ٹی ٹی پی نے باقاعدہ بیان دیا تھا پشاور میڈیا کے لوگوں نے رابطہ کیا شاہ فرمان کے کہنے پر کہ اس سے دو کروڑ مانگے گئے ان کے ساتھ کوئی چھوٹ ہونی چاہئے۔ ہمارا نظریہ عدم تشدد کا ہے طالبانائزیشن ستر کی دہائی سے شروع ہوئی۔ اے پی ایس کے واقعے کے بعد سب اکٹھے ہوئے اور ایک متفقہ پلان بنا جسے نیشنل ایکشن پلان کہا جاتا ہے۔ جب سب خلاف تھے جرگہ کے ہم نے کئے ہیں اور دنیا کو دکھایا کہ جرگے کی مخالفت کس نے اور اس کے بعد ہم نے آپریشن بھی کیا۔ لاء اینڈ آرڈر صوبائی مسئلہ ہے لیکن طالبانائزیشن کا مسئلہ دوسرے ملکوں سے بھی جڑا ہوا ہے وفاقی حکومت کو سب کو سو فیصد اعتماد میں لینا چاہئے۔
ضمنی الیکشن میں ہمارا مقابلہ صوبائی حکومت سے تھا، ایمل ولی خان








