بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ٹرانس جینڈرز ایکٹ کی آڑ میں ہم جنس پرستی کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، راجہ ضیا الحق

اسلام آباد(انٹرویو:فیصل اظفر علوی /عکاسی:سید جنید گردیزی)ٹرانس جینڈرز ایکٹ کی آڑ میں ہم جنس پرستی اور اس سے متعلقہ دیگر قباحتوں کیلئے ایک دروازہ کھولا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہارمعروف مذہبی سکالر، موٹیویشنل سپیکر اور سی ای او یوتھ کلب راجہ ضیاالحق نے روزنامہ ممتاز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئےکیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا خاندانی نظام اسلامی تعلیمات سے بہت زیادہ جڑا ہوا ہے۔ ٹرانس جینڈر ایکٹ کے تحت ایسی بہت سی چیزیں ہمارے معاشرے میں لائی جا رہی ہیں جس کی دین اسلام میں کوئی گنجائش نہیںاور وہ سراسر خلاف شریعت ہیں۔ ٹرانس جینڈرز ایکٹ کی آڑ میں ہم جنس پرستی اور اس سے متعلقہ دیگر قباحتوں کیلئے ایک دروازہ کھولا گیا ہے۔ مختلف طبقات کے لوگ ٹرانس جینڈرز ایکٹ کے خلاف ایک آواز بن کر کھڑے ہوئے ہیں۔ ہم ایسا کوئی قانون پاکستان میں نہیں بننے دیں گے جس سے ہمارا خاندانی نظام براہ راست متاثر ہو رہا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرانس جینڈر ٹرم کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اس کا معنی ہے کہ ایک ایسا شخص جو حیاتیاتی طور پر ایک مرد یا ایک عورت ہےلیکن وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی جو جنس ہے(جس جنس کے ساتھ وہ پیدا ہوا ہے) وہ اس سے مختلف ہے یا اس کے مخالف ہے۔ یہ معاملہ ایک نفسیاتی خرابی ہے۔ اس کو Gender Dysphoriaکہا جاتا ہےاور اس کا نفسیاتی علاج ہوتا ہے۔ اس کا علاج یہ نہیں کہ ایک شخص کہتا ہے کہ میں طبی لحاظ سے ایک مکمل مرد ہوں لیکن مجھے عورت تسلیم کیا جائےاور قانون اسے عورت مان لے۔ اس لحاظ سے وہ اپنی محسوسات کی بنیاد پر یہ مطالبہ کرتا ہے کہ مجھے قانونی طور پر عورت مان لیا جائے۔ ایسا کہیں نہیں ہوتا اور دنیا بھر میں احساسات سے قوانین کہیں بھی تبدیل نہیں ہوتے۔ اس کی ایک مثال Transageہے جس میں کوئی شخص اپنی عمر کو احساسات کی بنیاد پر جھٹلا دیتا ہے یعنی ایک 55سالہ شخص کہتا ہے کہ میں ہوں تو 55 سال کا لیکن مجھے Feelingsآتی ہیں کہ میں اندر سے 16برس کا ہوں۔ کیا اس شخص کی یہ بات تسلیم کرکے اس کا شمار ٹین ایجرز میں کیا جا سکتا ہے؟ یا ایک 8 سالہ بچہ کہتا ہے کہ مجھے 24 سالہ نوجوان کی Feelingsآتی ہیں توکیا اس کی بات مان کر اسے شادی کرنے کی اجازت دے دی جائے؟ یہ جو احساسات کی بنیاد پر چیزیں ہیں یہ نفسیاتی مسائل ہیں اور ان کا نفسیاتی علاج ہی ممکن ہے۔ اس حوالے سے والدین کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، انہیں چاہئے کہ وہ اپنے بچے کو شرمندگی محسوس نہ ہونے دیں، اس کا علاج کروائیں اور اسے تضحیک سے بچائیں۔ان کا کہنا تھا کہ احساسات کی بنیاد پر قانون کبھی نہیں بدلا جاتا۔ پاکستان میں جب کوئی اپنا شناختی کارڈ بنوانے جاتا ہے تو اس سے اس کا (ب) فارم مانگا جاتا ہے اور فارم (ب) برتھ سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر بنتا ہے۔ برتھ سرٹیفیکیٹ پر ڈاکٹر نے لکھا ہوتا ہے کہ وہ مرد یا عورت ہے۔یعنی اس کا معائنہ تو ہو چکا ہوتا ہے۔ اسی کی بنیاد پر اس کا شناختی کارڈ بنتا ہے۔ اسی وجہ سے ٹرانس جینڈرز کی شناخت کیلئے سرٹیفیکیٹ کا ہونا ضروری ہے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انٹر سیکس لوگ ٹرانس جینڈرز نہیں ہوتے یہ دونوں الگ الگ ٹرمز ہیں۔ انٹر سیکس وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے ساتھ پیدائشی طور پر جینیاتی مسئلہ ہوتا ہے۔ انسان میں اگر کوئی طبی خامی موجود ہو تو اس کا علاج بھی ممکن ہے۔ شریعت کہتی ہے کہ انٹر سیکس لوگوں کو بھی مرد یا عورت یعنی جس طرف ان کا جھکائو ہو وہی تسلیم کیا جائے گا۔ وہ شخص جب بڑا ہوگا تو اس کا شناختی کارڈ بھی مرد یا عورت کا ہی بنے گا۔شریعت ایسے اشخاص کو بھی مکمل شناخت اور حقوق دیتی ہے۔ اسلئے اسے تیسری جنس بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹرانس جینڈرز ایکٹ کے نام پر ایک بہت بڑا فریب ہوا ہے۔ آئین کہتا ہے کہ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ اسلامی نظریاتی کونسل سے ہو کر آئے گاکہ آیا اس میں کوئی خلاف شریعت بات تو نہیں ؟ لیکن ٹرانس جینڈرز ایکٹ بارے اسلامی نظریاتی کونسل والوں کو پتہ ہی نہیں تھا کہ ہوا کیا ہے۔ ٹرانس جینڈر ایکٹ بڑی خاموشی سے پاس ہو گیا۔ بعد میں اسلامی نظریاتی کونسل نے دو مرتبہ بڑی شدت کے ساتھ اس مسئلے پر اعتراض اٹھایا کہ یہ خلاف شریعت و آئین ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ جو بھی قانون بنے گا وہ قرآن و سنت کی روشنی میں بنے گا۔ جبکہ ٹرانس جینڈرز ایکٹ قرآن و سنت کے منافی ہے اور اس میں ترمیم ہونی چاہئے۔ ٹرانس جینڈرز، خواجہ سرایا انٹر سیکس شخصیات کا مذاق اڑانے کی تو کسی کو بھی اجازت نہیں۔ اگر کسی کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے تو ہمیں ان کی مدد کرنی چاہئے۔ ہماری خواجہ سرا کمیونٹی عام طور پر برے کاموں میں ملوث ہےجس کی وجہ سے انہیں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں لوگوں کو تعلیم و شعور دینا ہے۔ اگر کوئی بچہ اس طرح کی چیزوں کے ساتھ پیدا ہوا ہے کہ تو اس کی کونسلنگ ہونی چاہئے۔ اس سے قطع تعلقی کی بجائے پیار محبت سے اس کے مسائل کو حل کرنا چاہئے۔