لاہور: وزیر خزانہ پنجاب سردار محسن خان لغاری کی زیر صدارت پنجاب میں پبلک فنانس مینجمنٹ ریفارمز سٹریٹجی کے اجلاس ہوا جس میں صوبے میں وسائل کی مؤثر تقسیم کے حوالے سے بڑا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سردار محسن خان لغاری نے کہا کہ حکومت صوبے میں وسائل کی مؤثر تقسیم اور بجٹ سازی کے عمل میں شفافیت کے لیے پبلک فنانس مینجمنٹ کے سسٹم میں اصلاحات متعارف کروا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فنانس مینجمنٹ سسٹم میں اصلاحات کے نفاذ کے لیے پنجاب پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2022 متعارف کروایا جا رہا ہے جو کابینہ سے منظوری کے بعد حتمی طور پر پنجاب اسمبلی سے منظور کروایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایکٹ کا مقصد بجٹ سازی کے لیے وضع کردہ رہنما اصولوں کو قانونی حیثیت دلوانا ہے جبکہ محکمہ خزانہ پنجاب کی جانب سے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2022 کا مسودہ تیار کیا جا چکا ہے جو محکمہ قانون کے تحفظات کی دوری کے بعد کابینہ کمیٹی میں پیش کر دیا جائے گا۔
وزیر خزانہ پنجاب نے کہا کہ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ کے تحت بجٹ سازی کے عمل کے دوران فنڈز کی تخصیص محاصلات یعنی آؤٹ پٹ کی بنیاد پر کی جائے گی جبکہ بجٹ میں فنڈز کی تخصیص کے ساتھ ان کے اہداف اور ان کے حصول کا دورانیہ بھی متعین کیا جائے گا جو محکموں کی کارکردگی میں بہتری کو یقینی بنائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایکٹ میں ایک باب فسکل رسک کا بھی شامل کیا گیا ہے جس کا مقصد بجٹ خسارے پر کنٹرول ہوگا جبکہ اس کے علاوہ ایکٹ میں قرضوں کی حد کا بھی تعین کیا گیا ہے جو ڈیبٹ مینجمنٹ سسٹم کی معقولیت کو یقینی بنائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایکٹ کے تحت ہر سال لیپس ہونے والے فنڈز کو پروونشیل فنڈ کا حصہ بنایا جائے گا اور ضرورت کے وقت ان فنڈز کو انہی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا جن کے لیے وہ مخصوص کیے گئے تھے۔
سردار محسن خان لغاری نے کہا کہ ایسے ادارے جو سرکاری گرانٹس اور سبسڈیز پر چل رہے ہیں انھیں خود کفیل بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایکٹ کے تحت اسٹیٹ بینک میں دو اکاؤنٹ کھولے جائیں گے ایک پبلک فنڈ اور دوسرا ٹریژری، مسلسل خسارے کا سبب بننے والے اداروں سے اکٹھے ہونے والے محصولات حکومت کے ٹریژری فنڈز کا حصہ ہوگا جبکہ سنگل ٹریژری اکاؤنٹ سے گورنمنٹ کے کیش فلو میں بہتری آ ہے گی اور بجٹ زیادہ مؤثر ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایکٹ میں خود مختار اداروں کے اثاثوں کی رپورٹنگ کی بھی تجویز دی گئی ہے تاکہ حکومت کو علم ہو کے ان اداروں کے پاس پیسہ کہاں سے آ رہا ہے۔ اس کے علاؤہ اداروں کے اکاؤنٹس میں منجمد اثاثوں کو متحرک کر کے حکومتی وسائل میں اضافے کا زریعہ بنایا جائے گا۔
اجلاس کے دیگر شرکاء میں ڈیبٹ مینجمنٹ یونٹ اور سب نیشنل گورننس پروگرام کے نگران عبد الرحمان وڑائچ اور محکمہ خزانہ کے متعلقہ افسران شریک تھے۔
اس موقع پر عبد الرحمان وڑائچ نے اجلاس کو بتایا کہ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2022 کے تحت اداروں کی خود مختاری کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں کنٹرول کیا جائے گا۔
عبد الرحمان وڑائچ نے مزید کہا کہ ایکٹ کے تحت محکموں کو جو بجٹ جاری کیا جائے گا اس کی باقاعدہ رپورٹنگ کی جائے گی جو بجٹ کی شفافیت کے ساتھ دیگر ممالک کے ساتھ موازنے کو بھی ممکن بنائے گی۔
وزیر خزانہ پنجاب کی زیر صدارت اجلاس؛ صوبے میں وسائل کی تقسیم سے متعلق بڑا فیصلہ








