اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سربراہ تحریکِ انصاف عمران خان کا لانگ مارچ کب، کیسے کہاں پہنچے گا اسکا مجوزہ مکمل شیڈول مرتب کرلیا گیا ہے جس کا حتمی فیصلہ عمران خان خود کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق آج مرکزی و صوبائی عہدیداران سمیت منتخب نمائندوں کو بھی شیڈول کے بارے میں آگاہ کردیا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اب جمعہ تک لاہور میں ہی قیام کریں گے اور جمعہ کو بعد از نماز جمعہ لانگ مارچ کا آغاز لبرٹی چوک سے ہوگا۔
ذرائع کے مطابق جمعہ کی رات لبرٹی چوک تا شاہدرہ انٹرچینج پر لانگ مارچ کی پہلی منزل ہوگی، اس دوران عمران خان کے خطاب کے ساتھ ہی لانگ مارچ شاہدرہ پر رات گزارے گا۔
علاوہ ازیں لانگ مارچ شاہدرہ سے سے ہفتہ کے روز شروع ہوگا اور اگلا پڑاؤ پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ میں ہوگا، اتوار کے روز گوجرانولہ کے روایتی ناشتہ سے تواضع کیساتھ ہی لانگ مارچ کی اگلی منزل گجرات ہوگی۔
ذرائع نے بتایا کہ گجرات میں وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اور مونس الٰہی لانگ مارچ کا استقبال کریں گے جبکہ لانگ مارچ کا پڑاؤ گجرات اور جہلم کے درمیان سرائے عالمگیر پر ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کے روز نئے ہفتے کے آغاز کے ساتھ ہی لانگ مارچ اپنی اگلی منزل جہلم کی جانب بڑھے گا، جہلم میں پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما فواد چوہدری لانگ مارچ کی میزبانی کریں گے۔
منگل کے روز عمران خان اپنے لانگ مارچ کیساتھ گوجر خان سے ہوتے ہوئے روات میں پڑاؤ ڈالیں گے اور روات میں ہی رات خطاب کے ساتھ عمران خان بدھ کے روز اسلام آباد کی جانب بڑھنے کے بارے میں حتمی حکمت عملی مرتب کریں گے۔
ذرائع کے مطابق روات کے مقام پر ہی شمالی اور جنوبی پنجاب سرگودھا، چکوال، میانوالی، بھکر، لیہ کے قافلے لانگ مارچ میں شریک ہونگے جبکہ بدھ کے روز اسٹریٹیجی کے ساتھ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد کی جانب اگلی منزل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کو منگل کی شام اپنے قافلوں کو اسلام آباد کی جانب گامزن کرنے کا پلان مرتب کیا جائے گا جبکہ کراچی، سکھر، رحیم یار خان ، ملتان کے قافلے شاہدرہ انٹرچینج پر ہفتے کے روز ملیں گے۔
خیال رہے کہ لاہور میں عمران خان آج اپنے مرکزی کمیٹی کے ساتھ ارکان قومی و صوبائی اسمبلیوں سے ملاقات کریں گے اور اس دوران صوبائی صدور، ڈویژن صدور سمیت دیگر عہدیداران سے بھی عمران خان کی ملاقات ہوگی۔
واضح رہے کہ کارکنوں کو تھکاوٹ سے بچانے کے لیے وقفے وقفے کے ساتھ انہیں لانگ مارچ کا حصہ بنایا جائے گا جبکہ عمران خان لاہور سے اسلام آباد پہنچنے کے لیے کم از کم 6 اور زیادہ سے زیادہ 8 دن لیں گے۔









