سرینگر (ممتاز نیوز) کل جماعتی حریت کانفرنس کی سینئر رہنماءاور جموں وکشمیر ماس موومنٹ کی چیر پرسن فریدہ بہن جی نے مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کے بڑھتے ہوئے فوجی مظالم پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لے اور کشمیریوں کا قتل عام بند کرانے کے لئے بھارت کے خلاف اقدامات اٹھائے ،اتوار کو اپنے بیا ن میں فریدہ بہن جی نے کشمیر پر بھارت کی غیر قانونی فوج کشی کے خلاف گزشتہ روز 27اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر منانے پر پوری دنیا کے کشمیریوں کا شکریہ اداکیا ہے انہو ں نے کہاکہ کشمیریوں کا بھرپور طریقے سے یوم سیاہ منا نا اپنے مادر وطن پر بھارت کے جبری قبضے کو ہرگز تسلیم نہ کرنے کا ریفرنڈم ہے ۔ انہوںنے کہا کہ حکومت پاکستان کی طرف سے بھی یو م سیاہ منا نے پر ہم پوری پاکستانی قوم کے شکرگرار ہیں جو ہمیشہ سے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، انہوں نے کہاکہ بھارت کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کی خاطر اپنی ظالمانہ کارروائیوں اور فوجی طاقت کا بے دریغ استعمال کررہا ہے لیکن کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ بہادری سے ان مظالم اور حربوں کا مقابلہ کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ بھارت ایک مذموم منصوبے کے تحت کشمیریوں کا قتل عام کررہا ہے تاکہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جائے ،روزانہ کشمیریوں کو شہید کیا جاتا ہے جبکہ نوجوانوں کو گرفتار کرکے جیلو ںمیں بند کیاجاتاہے صو رتحال کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر میں قبرستان شہداءسے بھرگئے ہیں جبکہ جیلوں میں اب قیدیوں کے لئے جگہ نہیں رہی ہے ،پوری کشمیری قیادت پابند سلاسل ہے ، علمائے دین سمیت سیکڑوں کشمیری بلا لحاظ عمر جیلوں اور حراستی مراکز میں کالے قوانین کے تحت نظر بند ہیں،انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے جیلوں میں بند کئی قیدیوں کی حالت انتہائی حراب ہے۔ انہوں نے کہا یہ نظر بند صحت کے سنگین مسائل کا شکار ہو چکے ہیں۔۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ یہ معاملہ بھارتی حکومت کے ساتھ اٹھائیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کشمیری لیڈرشپ کو قیدیوں میں قتل کررہا ہے تاکہ کشمیری عوام کو اپنی قیادت سے محروم رکھا جائے ،لیکن بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کشمیری بھارت کے ان ظالمانہ ہتھکنڈوں سے اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہونگے ،انہوں نے کہاکہ بھارت کی اس میں بہتری ہے کہ تنازعہ کشمیر کو اب حل کرنا ہوگا اور یہ حل جموں و کشمیر کے تمام لوگوں کے لیے باعث اطمینان ہونا چاہیے، جو تنازے کے اہم فریق ہیںمسئلہ کشمیر کے حل میں مزید تاخیر خطے کے امن کے لئے سنگین خطرناک ہے ۔
مسئلہ کشمیر کے حل میں مزید تاخیر خطے کے امن کے لئے سنگین خطرناک ہے، فریدہ بہن جی








