اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزارت خزانہ کی اقتصادی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روپیہ تگڑا ہوگیا ہے ، مہنگائی کم ہوگی، معیشت میں بہتری نظر آرہی ہے سیلاب سے چیلنجز کا سامنا ہے ، آنیوالے مہینوں میں اچھی معاشی کارکردگی متوقع ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس میں بھی بہتری کا رجحان ہے، ضروری اشیاء کی بروقت درآمد اور دیگر حکومتی اقدامات سے سپلائی لائن مستحکم ہوگئی ، ٹیکس ریونیو میں 17؍ فیصد اضافہ ہوا تاہم ترسیلات زر 6.3فیصد کم ہوگئیں ، مالی خسارہ 45.4؍ فیصد بڑھنے کے بعد 672؍ ارب رہا، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری 47.1فیصد گھٹ گئی ہے ۔ وزارت خزانہ کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تسلسل سے کمی ، روپے کی قدر میں اضافہ کے باعث پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں کمی متوقع ہے تاہم سیلاب کے باعث ملکی معیشت کو چیلنجز کا سامنا ہے لیکن مجموعی طورپر آنیوالے مہینوں میں معاشی کارکردگی میں بہتری نظر آرہی ہے کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس میں بھی بہتری کا رحجان ہے ،وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ماہانہ اقتصادی رپورٹ کے مطا بق سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبرد آزما معیشت سنبھلنے لگی ہے اور آنے والے مہینوں میں معاشی کارکردگی میں بہتری اور مہنگائی میں کمی کی امید پیدا ہوگئی ہے۔ ضروری اشیا کی بروقت درآمد اور دیگر حکومتی اقدامات سے سپلائی لائن اور قیمتوں میں استحکام آیا اور پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ ہوا ہےتاہم پاکستان کے تجارتی شراکت داروں کی تجارت میں کمی کےرحجان کے باعث آئندہ مہینوں میں پاکستان کی برآمدات میں کمی کا رحجان متوقع ہے ۔رپورٹ کے مطابق رواں ماہ اکتوبر میں مہنگائی 21سے ساڑھے 22فیصدرہنے کا امکان ہے، اگست میں کنزیومر پرائس انڈیکس کی یہ شرح 27 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔اعداد و شمار کے مطابق موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں برآمدات 5.5 فیصد اضافہ ہوا 7اورارب 60کرور ڈالر رہیں، اس دوران ٹیکس ریونیو میں17فیصد اضافہ ہوا، جب کہ مالی خسارہ 45.4فیصداضافہ ہوا جس سے یہ بڑھ کر 672 ارب رہا، ترسیلات زر میں 6.3 فیصد کمی آئی اور وہ 7 ارب 70کروڑ ڈالر رہیں،ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ رپورٹ کے مطابق ڈالر ریٹ میں مصنوعی طریقے سے اضافہ کرنے والے کمرشل بینکوں کیخلاف کارروائی کی گئی اس سے بھی روپے کی قدر میں استحکا م پیدا ہوا،رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ جولائی اگست کے دوران مالی خسارے میں 45.4فیصد اضافہ ہوا اور672ارب روپے ہوگیا جو کہ گزشتہ برس اس عرصے میں 462ارب روپے تھا تین ماہ جولائی تا ستمبر کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ہوئی اور یہ دوارب 20کروڑ ڈالر رہا جو گزشتہ برس اس عرصے میں تین ارب 50کروڑ ڈالر تھا ،تین ماہ میں مہنگائی کی اوسط شرح 25.1فیصد رہی جبکہ ستمبر میں مہنگائی کی شرح 23.2فیصد رہی ، تین ماہ میں ترسیلات زر میں 6.3فیصد کمی ہوئی اور 7ارب 70کروڑ ڈالر کی بیرون ملک سےترسیلات ہوئیں جو گزشتہ برس اس عرصے میں 8ارب20کروڑ ڈالر تھیں ، برآمدات میں 5.5فیصد اضافہ ہوااور سات ارب 60کروڑ ڈالر کی برآمدات ہوئیں ، درآمدت میں 7.9فیصد کی کمی ہوئی ، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 47.1فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ مجموعی بیرونی سرمایہ کاری میں 83.7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ، 26اکتوبر 2022کو پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کےذخائر 14ارب62کروڑ ڈالر اور سٹیٹ بنک کے ذخائر 8ارب 88کروڑ ڈالر رہے جو گزشتہ برس اس تاریخ کو 23ارب84کروڑ ڈالر اور سٹیٹ بنک کےذخائر 17ارب ڈالر تھے ، کرنسی کی قد 220روپے 68پیسے امریکی ڈالر رہی جو گزشتہ برس اس تاریخ کو 175 روپےامریکی ڈالر تھی ، رواں مالی سال جولائی اگست کے دوماہ میں ایف بی آر کے ٹیکس ریونیو میں 17فیصد اضافہ ہوا ،نان ٹیکس ریونیو میں 47.4فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا ، پی ایس ڈی پی کے اجراء میں 39.9فیصد کمی ہوئی اور صرف 38ارب روپے جاری ہوسکے، جولائی سے ستمبر کے تین ماہ میں زرعی قرضوں کی فراہمی میں 31.5فیصد اضافہ ہوا جبکہ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں کمی ریکارڈ کی گئی ، شرح سود 15فیصد ہے،رپورٹ کے مطابق جولائی تا اگست کے دوماہ میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ کی شرح منفی 0.4فیصد رہی جو گزشتہ برس 11.9فیصد تھی
روپیہ تگڑا، مہنگائی کم ہوئی، معیشت میں بہتری نظر آرہی ہے، سیلاب چیلنجز کا سامنا، اقتصادی جائزہ رپورٹ








