پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ میں ایک سال تک انتخابات کے لیے انتظار کرسکتا ہوں لیکن ملکی معیشت اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
ترک ٹی وی چینل ٹی آر ٹی کے پروگرام نیوز میکر کو دیے گئے انٹرویو میں سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ ان پر کیے گئے حملے کے بعد نفسیاتی طور پر پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے علم تھا کہ چار طاقتور لوگوں نے بند کمرے میں مجھے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ بعدازاں منصوبہ تبدیل کیا کہ وہ مجھے مذہبی انتہا پسندی کا شکار کر کے قتل کر دیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایک جعلی ویڈیو بنائی گئی اور اسے ملک کے چند صحافیوں نے شیئر کیا تاکہ مجھ پر توہین مذہب کا الزام لگایا جائے اور کسی مذہبی جنونی کے ہاتھوں مجھے قتل کروایا جا سکے۔‘
اینکر پرسن ایندرے سینکے کی جانب سے سوال کیا آپ ایک سال کے لیے الیکشن کا انتظار کر سکتے ہیں کے جواب میں سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چھ ماہ میں ملک دیوالیہ ہو گیا۔ ملکی معیشت دن بہ دن گر رہی ہے اور اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ جلد از جلد انتخابات کروا کر عوامی حکومت کو لایا جائے۔
انھوں نے کہا کہ ’جہاں تک پی ٹی آئی کی سیاست کا تعلق ہے تو میں ایک سال تک الیکشن کا انتظار کر سکتا ہوں کیونکہ ہم ہر دن عوام کی مزید حمایت حاصل کر رہے ہیں لیکن ملکی حالات ایسے نہیں کہ اتنا وقت دیا جا سکے۔ مجھے خدشہ ہے کہ ہم بیرونی قرضوں کی وجہ سے دیوالیہ ہو جائیں گے۔ تو پاکستان کی خاطر اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ جلد از جلد انتخابات کا انعقاد کیا جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہماری بیرون ملک ترسیلات زر گر رہی ہے، ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہو رہی، ہماری برآمدات کا حجم کم ہو گیا ہے اور یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہے اور جب تک کسی ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوتا معاشی استحکام نہیں آ سکتا۔ سیاسی استحکام صرف انتخابات کے ذریعے ہی آ سکتا ہے۔‘
لانگ مارچ کے دوران حملے کی ایف آئی درج نہ ہونے اور چیف جسٹس آف پاکستان سے آزادانہ تحقیقات کروانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں پاکستان کی سب سی بڑی جماعت کا سربراہ ہوں، سابق وزیر اعظم ہوں، پنجاب میں میری جماعت کی حکومت ہے لیکن تین دن سے میرے پر حملے کی ایف آئی آر درج نہیں ہو سکی کیونکہ پولیس نے ان تین افراد کے نام شامل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تو میرا یہ حق ہے کہ مجھ انصاف ملے اور پتہ چلا کہ پنجاب حکومت کو کون چلا رہا ہے؟
انھوں نے کہا ’میں چاہتا ہوں کہ چیف جسٹس اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کروائیں کیونکہ یہ ملک میں قانون کی بالادستی کا سوال ہے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اس سارے معاملے کو مذہبی جنونیت کا رنگ دیا جا رہا ہے اور اس منصوبے کا میں نے چھ ہفتے پہلے ہی ایک عوامی جلسے میں بتا دیا تھا۔ مجھ پر کتنی جانب سے فائرنگ کی گئی اس بارے میں آج رات کو اس واقعے کی فارنزک رپورٹ آ جائے گی اور اگر اس میں ردوبدل نہ کیا گیا تو پتا چل جائے گا کہ فائرنگ کتنی طرف سے ہوئی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ سوشل میڈیا سے عوام میں سیاسی شعور اجاگر کر دیا ہے اور اب یہ جن بوتل میں واپس نہیں جا سکتا۔ انھوں نے صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز پر پابندیاں لگائی۔ ارشد شریف کو قتل کروایا۔‘
اس کا صرف حل یہ ہے کہ پرامن انقلاب لایا جائے اور الیکشن کے ذریعے عوامی حکومت کو آنے دیا جائے ورنہ اس کا دوسرا طریقہ وہ ہے جو سب سے لیے خطرناک ہے اور پھر معاملات سب کے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔‘
میں ایک سال تک انتخابات کے لیے انتظار کرسکتا ہوں لیکن ملکی معیشت اس کی متحمل نہیں ہو سکتی: عمران خان








