بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ارشد شریف کے پوسٹ مارٹم کی اصل رپورٹ نہیں دی گئی، نقل بھی نامکمل، خاندان کا دعویٰ

اسلام آباد:کینیا میں قتل ہونے والے سینیئر صحافی ارشد شریف کے خاندان کا کہنا ہے کہ اُنھیں کینیا سے میت کے ساتھ جو پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہوئی، اس میں کچھ صفحات موجود نہیں تھے۔
خاندان کے مطابق اس پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ کا مہربند لفافہ جب اُنھیں دیا گیا تو وہ پہلے ہی کھلا ہوا تھا۔
ارشد شریف کو دو ہفتے قبل یعنی 23 اکتوبر کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے مضافاتی علاقے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کی لاش کا پوسٹ مارٹم پاکستان منتقلی سے قبل کینیا میں بھی پاکستانی سفارتخانے کے عملے کی نگرانی میں کیا گیا تھا۔ اصل دستاویزات ایک مہر بند لفافے میں ان کے ورثا کے حوالے کی جانی تھیں۔
تاہم برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے ان کے اہلخانہ نے کہا ہے کہ کینیا سے آنے والے ان دستاویزات میں کاغذات کی نقل تو موجود ہے جبکہ اصلی دستاویزات نہیں ہیں۔ جبکہ لفافے کے ساتھ جڑی ’چیک لسٹ‘ میں اصل ڈاکیومنٹس کے لف ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
ارشد شریف کےاہلخانہ کے مطابق اُنھوں نے اس سلسلے میں نیروبی میں پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا اور ان سے اصلی دستاویزات اور لفافے کے کھلے ہونے سے متعلق استفسار کیا تو ’سفارتخانے کے اہلکاروں نے ہمیں بتایا کہ سفارتخانے سے اصلی دستاویزات پر مشتمل مہربند لفافہ میت کے ہمراہ بھیجا گیا تھا، اس لیے ہم (سفارتخانہ) نہیں جانتے کہ یہ لفافہ نیروبی ایئرپورٹ پر کھولا گیا یا دوحہ میں۔