اسلام آباد: مریخ پر انسانوں کو بھیجنے میں ابھی کئی برس لگ سکتے ہیں مگر امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے اس حوالے سے تیاریاں جاری ہیں۔
ناسا کی جانب سے ایک نئی ہیٹ شیلڈ (heat shield) کی آزمائش کی گئی جو زمین کے پڑوسی سیارے پر انسانوں کی لینڈنگ کا اہم ترین جز ثابت ہوگی۔
لوفٹیڈ نامی شیلڈ کسی سیارے کے ماحول میں داخل ہونے کے بعد اندر موجود سامان کو شدید درجہ حرارت سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔
زمین پر لوفٹیڈ کی آزمائش کے لیے ناسا نے اسے 10 نومبر کو ایک کمپنی یونائیٹڈ لانچ الائنس (یو ایل اے) کے اٹلس وی راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا۔
اس راکٹ کا بنیادی مشن تو ایک موسمی سیٹلائیٹ کو زمین کے مدار میں پہنچانا تھا مگر اس کے ساتھ ساتھ لوفٹیڈ کو بھی اس مشن کا حصہ بنایا گیا۔
ناسا کی جانب سے اس شیلڈ کی تیاری کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس میٹریلز کو استعمال کیا گیا ہے تاکہ کسی سیارے کے ماحول میں داخل ہوتے ہوئے بہت زیادہ درجہ حرارت کا بھی اس پر کوئی اثر نہ ہو۔
خلا سے زمین پر واپسی آسان نہیں ہوتی اور ناسا کے تخمینے کے مطابق لوفٹیڈ شیلڈ زمین کے ماحول میں 18 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے داخل ہوئی۔
یو ایل اے نے ایک ٹوئٹ میں اس شیلڈ کو راکٹ سے الگ ہوکر اپنی منزل کی جانب بڑھتے ہوئے دکھایا گیا۔
Let's look back at the @NASA_Technology #LOFTID separation from Centaur! pic.twitter.com/KXD3g0HcIG
— ULA (@ulalaunch) November 10, 2022
ناسا نے بھی ایک ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی جس میں یہ شیلڈ ریاست ہوائی کے قریب سمندر میں اترتے ہوئے دکھائی گئی، جسے ریکوری عملے نے پانی سے باہر نکالا۔
Moments years in the making for the team at @NASA_Langley: See the #LOFTID @NASA_Technology demonstration splash down in the Pacific Ocean near Hawaii. The data from this inflatable heat shield test will help us land more massive missions, and explore farther. pic.twitter.com/PzARsfhC9P
— NASA (@NASA) November 10, 2022
ناسا کے مطابق اس طرح کی شیلڈ مریخ کی سطح پر بڑے اور بھاری بوجھ کو پہنچانے کے لیے اہم ثابت ہوگی۔
اب ناسا کی جانب سے سنسر اور کیمرا ڈیٹا کے ذریعے شیلڈ کی کارکردگی کا تجزیہ کیا جائے گا جس کو مدنظر رکھ کر اس کا ڈیزائن مزید بہتر بنایا جائے گا۔









