اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک بھر کی اعلیٰ عدلیہ بشمول سپریم کورٹ آف پاکستان، پانچ متعلقہ ہائی کورٹس اور اپیلیٹ ٹربیونلز کے سامنے ٹیکس سے متعلق کُل 87,958 زیر التوا مقدمات میں 2.582 ٹریلین روپے کی بڑی رقم پھنسی ہوئی ہے۔ دی نیوز کو دستیاب سرکاری اعداد و شمار سے انکشاف ہوا کہ انکم ٹیکس، جنرل سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق ان لینڈ ریونیو سروس کے لیے مختلف عدالتی فورمز پر 30 ستمبر 2022 تک 2.333 ٹریلین روپے کے مقدمات کی کل تعداد 74, 566 تھی۔ 30 ستمبر 2022 تک کسٹمز کے زیر التوا قانونی چارہ جوئی کے مقدمات 13,392 تھے جن میں 249 ارب روپے کے بقایا ٹیکس کی رقم شامل تھی۔ آئی آر ایس کے 2.333 ٹریلین روپے سمیت 74566 کے کل زیر التوا مقدمات میں سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں 3244 کیسز زیر التوا ہیں جن میں 96 ارب روپے کی ٹیکس کی رقم واجب الادا ہے۔ تمام ہائی کورٹس میں لاہور ہائی کورٹ کل زیر التوا کیسز اور بقایا رقم کے حوالے سے سرفہرست ہے لاہور ہائیکورٹ کے سامنے کیسز کی تعداد 5305 ہے جبکہ ٹیکس کی بقایا رقم 369 ارب روپے ہے۔ سندھ ہائی کورٹ دوسرے نمبر پر ہے جیساکہ آئی آر ایس کے زیر التواء کیسز کی کل تعداد 2509 اور ٹیکس کی بقایا رقم 210 ارب روپے ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے 1094 مقدمات زیر التوا ہیں جن میں 178 ارب روپے کی ٹیکس کی رقم واجب الادا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ میں زیر التواء آئی آر ایس کیسز کی تعداد 321 رہی جبکہ ٹیکس کی بقایا رقم 8 ارب روپے تھی۔ بلوچستان ہائی کورٹ میں آئی آر ایس کے کل 11 کیسز زیر التوا ہیں جن میں 3 ارب روپے کی ٹیکس کی رقم شامل ہے۔ آئی آر ایس اپیلیٹ ٹربیونلز کے سامنے کل 62082 مقدمات زیر التوا ہیں اور ٹیکس کی بقایا رقم 1469 ارب روپے ہے۔ کسٹم کے زیر التوا قانونی چارہ جوئی کے مقدمات کی تفصیلات کے مطابق مجموعی طور پر 13392 زیر التوا مقدمات ہیں جن میں 249 ارب روپے کی پھنسی ہوئی رقم شامل ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے کسٹمز کے 1453 کیسز زیر التوا ہیں جن میں 12 ارب روپے کی ٹیکس کی رقم شامل ہے۔
ملک بھر کی اعلیٰ عدلیہ میں ٹیکس کے کُل 87,958 زیر التوا مقدمات








