نیروبی (انٹرنیشنل ڈیسک )اموڈمپ کے شریک مالک جمشید حسین خان نے کہاکہ جہاں مقتول صحافی ارشد شریف نے اپنے آخری گھنٹے گزارےیہ علاقہ بہت محفوظ تھا،میں یہاں 12سال سے رہ رہاہوں یہاں توکوئی چوہاتک نہیں مراہم تورات کودو دو تین بجے تک سفر کرتے ہیں ،پچھلی دہائی کے دوران کوئی مسئلہ نہیں ہوا،امریکی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے شوٹنگ سائٹ اموڈمپ کے شریک مالک جمشید حسین کاکہناتھاکہ ارشد شریف کے واقعہ کے بعد پولیس نے ہم سے تفتیش کی انہوں نے جوہم سے پوچھاہم نے بتادیاانہوں نے کہاکہ یہ افسوسناک واقعہ ہمارے سامنے نہیں ہوا،جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کوئی ایسی معلومات دے سکتے ہیں جو ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہے، اموڈمپ کے شریک مالک نے کہا کہ کینیا کی پولیس نے کہا ہے کہ انہوں نے “غلطی سے” شریف کو قتل کیا۔ٹائم لائن میں تضادات کے بارے میں پوچھے جانے پر جمشید نے بتایا کہ جنرل سروس یونٹ (GSU) کینیا کی فوج کا حصہ تھا اور اس نے جائیداد پر ایک بیس کیمپ قائم کیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے تفتیشی حکام کے تمام سوالات کے جوابات دیے ہیں اور مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا کیونکہ “واقعہ ان کے سامنے نہیں ہوا”۔شریف کو 23 اکتوبر کو کینیا کے نیروبی شہر کے مضافات میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا ۔ ان کی موت نے حقوق کی تنظیموں، میڈیا برادری اور سول سوسائٹی میں صدمے کی لہر دوڑائی اور مکمل تحقیقات اور حقائق کے انکشاف کا مطالبہ کیا۔شریف اور اس کے ڈرائیور نے مبینہ طور پر ایک روڈ بلاک کی خلاف ورزی کی جو راستے کا استعمال کرتے ہوئے موٹر گاڑیوں کو چیک کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، جہاں نیروبی کے علاقے پنگانی میں کار جیکنگ کے ایک واقعے کے بعد پولیس کو ایک ایسی ہی کار کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا جو وہ چلا رہے تھے۔ ایک بچے کو یرغمال بنا لیا گیا۔
آخر پولیس کے روکنے پر خرم احمد نے گاڑی کیوں نہ روکی؟
پولیس کا موقف ہے کہ ان کی گاڑی کچھ میٹرپرکھڑی تھی اورہیڈ لائٹس آن تھیں۔
خرم احمد کا اپنا مئوقف کیا ہے؟ اے آر وائی کے سلمان اقبال اورطارق وصی سے وقاراحمد، خرم احمد اورجمشید خان کاکیا تعلق ہے؟
ارشد شریف کے میزبان کا پہلا انٹرویو pic.twitter.com/4zz6G4QrkM— VOA Urdu (@voaurdu) November 12, 2022









