لندن (نیوز ڈیسک) جنوبی اور وسطی ایشیا میں امریکا کے معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو نے عمران خان سے متعلق سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا ہے، برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں ڈونلڈ لو نے کہا کہ وہ سابق پاکستانی وزیر اعظم کے بارے میں سوال کا جواب نہیں دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان براہ راست مذاکرات سے ہی مسئلہ کشمیر کا حل ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کو کشمیر میں مقامی الیکشن اور سیاسی حقوق بحال کرنے چاہئیں، وادی میں یقینی بنایا جانا چاہیے کہ میڈیا اپنا کام جاری رکھ سکے، امن کے لیے یہ سب ضروری ہے، امید ہے آئندہ برسوں میں کشمیرمیں یہ امن یقینی بنایا جاسکے گا۔ ڈونلڈ لو کا کہنا ہے کہ امریکا نے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اعلیٰ سطح پر بات چیت کی ہے۔ پاکستان کو ایف 16جنگی طیاروں کی فروخت سے متعلق سوال پر ڈونلڈ لو نے کہا کہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ایف 16طیاروں کا یہ منصوبہ فوجی امداد نہیں، فوجی ساز و سامان کی فروخت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کسی ملک کو فوجی سامان فروخت کرتا ہے تو وہ اس کی تکنیکی معاونت بھی فراہم کرتا ہے۔
عمران سے متعلق سوال کا جواب نہیں دوں گا، ڈونلڈ لو








